- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ روحیں مخلوط لشکر ہیں ۱∞؎تو ان میں سے جو جو جان پہچان رکھتی ہیں وہ الفت کرتی ہیں اور جو اجنبی رہ چکی ہیں وہ الگ رہتی ہیں۔(بخاری)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا اِئْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5003 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا۔
وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5004 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے ۱∞؎تو حضرت جبریل کو بلاتا ہے پھر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں ۲؎تم اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل اس سے محبت کرتے ہیں ۳؎آسمان میں اعلان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ الله تعالٰی فلاں سے محبت کرتا ہے۴؎تم لوگ اس سے محبت کرو ۵؎تو اس سے آسمان والے محبت کرتے ہیں ۶؎پھر اس کے لیے زمین میں قبولیت رکھ دی جاتی ہے ۷؎اور جب رب تعالٰی کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو فرماتا ہے کہ میں فلاں سے ناراض ہوں تو تم بھی اس سے ناراض ہوجاؤ فرمایا کہ جبرئیل اس سے ناراض ہوجاتے ہیں پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ الله تعالٰی فلاں سے ناراض ہے تم لوگ بھی اس سے ناراض ہوجاؤ ۸؎فرمایا پھر وہ لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لیے نفرت رکھ دی جاتی ہے ۹؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهٗ قَالَ: فَيُحِبُّهٗ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَآءِ فَيَقُولُ: إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهٗ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الْأَرْضِ. وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ: إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ.قَالَ فَيُبْغِضُهٗ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَآءِ: إِنَّ اللّٰهَ يُبْغِضُ فَلَانَا فَأَبْغِضُوهُ. قَالَ: فَيُبْغِضُونَهُ. ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ البَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5005 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی قیامت کے دن فرمائے گا کہ کہاں ہیں میری عظمت کے لیے آپس میں محبت کرنے والے ۱∞؎آج میں انہیں اپنے سایہ میں جگہ دوں گا جب کہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5006 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ ایک شخص نے اپنے بھائی سے دوسری بستی میں ملاقات کی ۱∞؎الله تعالٰی نے اس کے اوپر ایک فرشتہ مقرر کردیا ۲؎وہ بولا کہاں جاتا ہے۳؎اس نے کہا کہ اس بستی میں اپنے ایک بھائی کا ارادہ کرتا ہوں وہ بولا تیرا اس پر احسان ہے جسے تو حاصل کرنا چاہتا ہے۴؎بولا نہیں بجز اس کے کہ میں اس سے الله کے لیے محبت کرتا ہوں ۵؎فرشتہ نے کہا کہ میں تیری طرف الله کا قاصد ہوں کہ الله تجھ سے محبت کرتا ہے جیسے تو نے اس سے محبت کی ۶؎(مسلم)
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهٗ فِي قَرْيَةٍ أُخْرٰى فَأَرْصَدَ اللّٰهُ لَهٗ عَلٰى مَدْرَجَتِهٖ مَلَكًا قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هٰذِهِ القَرْيَةِ. قَالَ: هَلْ لَكَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُّبُّهَا؟ قَالَ: لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهٗ فِي اللّٰهِ. قَالَ: فَإِنِّي رَسُولُ اللّٰهِ إِلَيْكَ بِأَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهٗ فِيهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5007 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرمایا کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا عرض کیا یارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حضور اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرے اور ان سے ملا نہ ہو ۱∞؎تو فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ؟ فَقَالَ: اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5008 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله قیامت کب ہے فرمایا افسوس تجھ پر تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ۱∞؎وہ بولا میں نے اس کی تیاری کوئی نہیں کی بجز اس کے کہ میں الله اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ۲؎فرمایا تو اسکے ساتھ ہوگا جس سے تجھے محبت ہو، حضرت انس نے فرمایا کہ میں نے مسلمانوں کو اسلام کے بعدکسی چیز پر ایسا خوش ہوتے نہ دیکھا جیسا کہ وہ اس سے خوش ہوئے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: وَيْلَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ . قَالَ أَنَسٌ: فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرْحَهُمْ بِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5009 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ۱∞؎مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے۲؎اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رَيْحًا خَبِيْثَةً . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5010 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تعالٰی نے فرمایا میری محبت میرے بارے میں محبت کرنے والوں اور میرے بارے میں بیٹھنے والوں ملاقات کرنے والوں اور میری راہ خرچ کرنے والوں کے لیے لازم ہوگئی ۱∞؎ترمذی کی روایت میں ہے فرمایا کہ الله تعالٰی فرماتا ہے کہ میری راہ میں محبت کرنے والے ان کے لیے نور کے منبر ہیں ان پر نبی اور شہداء رشک کریں گے ۲؎
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَ الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ". رَوَاهُ مَالِكٌ . وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيَّ قَالَ: " يَقُولُ اللّٰهُ تَعَالٰى: الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ "
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5011 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ الله کے بعض بندے وہ ہیں ۱∞؎جو نہ تو نبی ہیں نہ شہید ان پر حضرات انبیاء شہداء قیامت کے دن رشک کریں گے ان کے قربِ الٰہی کی وجہ سے ۲؎لوگ بولے یارسول الله ہمیں خبر دیں کہ وہ کون لوگ ہیں فرمایا وہ وہ قوم ہے جو الله کے قرآن کی وجہ سے۳؎ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں بغیر آپس کی قرابت داری کے اور بغیر آپس کی مالی لین دین کے ۴؎تو الله کی قسم ان کے چہرے نور ہوں گے اور وہ نور پر ہوں گے ۵؎جب لوگ ڈریں گے یہ نہ ڈریں گے اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو یہ غمگین نہ ہوں گے ۶؎اوریہ آیت تلاوت فرمائی خبردار رہو بے شک الله کے ولی نہ ان پر ڈر ہے نہ وہ غمگین ہوں ۷؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللّٰهِ لَأُنَاسًا مَا هُمْ بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ القِيَامَةِ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللّٰهِ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ تُخْبِرُنَا مَنْ هُمْ؟ قَالَ: هُمْ قَوْمٌ تَحَابُّوا بِرُوحِ اللّٰهِ عَلٰى غَيْرِ أَرْحَامٍ بَيْنَهُمْ وَلَا أَمْوَالٍ يَتَعَاطَوْنَهَا فَوَاللّٰهِ إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ وَإِنَّهُمْ لَعَلٰى نُورٍ لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنَ النَّاسُ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: (أَلَا إِنَّ أَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ) رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5012 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
اور اسے شرح سنہ میں حضرت ابو مالک سے روایت کیا ۱∞؎مصابیح کے الفاظ میں مع زیادہ کے یوں ہی شعب الایمان میں ہے۔
وَرَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”. عَنْ أَبِي مَالِكٍ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ مَعَ زَوَائِدَ وَكَذَا فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5013 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوذر سے فرمایا اے ابوذر ایمان کی گرہوں میں سے کون سی گرہ ۱∞؎مضبوط ہے عرض کیا الله رسول ہی خوب جانیں فرمایا الله کی راہ میں دوستی الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟ قَالَ: اللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ. قَالَ: الْمُوَالَاةُ فِي اللّٰهِ وَالْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ .رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5014 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی بیمار پرسی یا ملاقات کرتا ہے ۱∞؎تو رب تعالٰی فرماتا ہے کہ تو اچھا تیرا چلنا اچھا اور تو نے جنت میں منزل یعنی گھر بنالیا ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهٗ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5015 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے خبر دیدے کہ وہ اسی سے محبت کرتا ہے ۱∞؎(ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْكَرِبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5016 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا حضور انور کے پاس کچھ لوگ تھے تو آپ کے پاس والوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ میں اس سے الله کے لیے محبت کرتاہوں ۱∞؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے اسے بتادیا ہے عرض کیا نہیں فرمایا اس کے پاس جاؤ اسے بتادو ۲؎چنانچہ وہ شخص اسکے پاس گیا اسے یہ خبر دی۳؎وہ بولا کہ تجھ سے وہ محبت کرے جس کی راہ میں تو نے مجھ سے محبت کی ہے ۴؎راوی فرماتے ہیں کہ پھر واپس ہوا تو اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۵؎تو اس نے حضور کو خبر دی جو اس نے کہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرے ۶؎اور تیرے لیے وہ ہے جو تم نے طلب اجر کیا ۷؎(بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرے اور اس کے لیے وہ ہے جو کمائے ۸؎
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهٗ نَاسٌ. فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ عِنْدَهٗ: إِنِّيْ لَأُحِبُّ هٰذَا لِلّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْلَمْتَهُ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: قُمْ إِلَيْهِ فَأَعْلِمْهُ . فَقَامَ إِلَيْهِ فَأَعْلَمَهٗ فَقَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ. قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ. فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهٗ بِمَا قَالَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ .وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، وَلَهُ مَا اكْتَسَبَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5017 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ ساتھ رہو مگر مؤمن کے ۱∞؎اور تمہارا کھانا نہ کھائے مگر پرہیزگار ۲؎(ترمذی، ابوداؤد،دارمی)۳؎
وَعَنْ أَبِي سَعِيْدٍ أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5018 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان اپنے دوست کے طریقہ پر ہوتا ہے ۱∞؎تو ہر ایک سوچ لے کہ کس سے محبت کرتا ہے ۲؎(احمد، ترمذی،ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)اور ترمذی نے فرمایا حدیث حسن غریب ہے،نووی نے کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہے ۳؎
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ عَلٰى دِينِ خَلِيلِهٖ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِسْنَادُهٗ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5019 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت یزید ابن نعامہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص کسی سے بھائی چارہ کرے ۲؎تو اس سے اس کا نام اس کے باپ کا نام پوچھ لے اور یہ کہ وہ کس قبیلہ سے ہے کہ یہ تحقیقات دوستی کو مضبوطی دینے والی ہے ۳؎(ترمذی)
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا آخَى الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلْيَسْأَلْهُ عَنِ اسْمِهٖ وَاسْمِ أَبِيْهِ وَمِمَّنْ هُوَ؟ فَإِنَّهٗ أَوْصَلُ لِلْمَوَدَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5020 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیے ۱∞؎فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کون سا عمل الله تعالٰی کو زیادہ پسند ہے ۲؎کسی کہنے والے نے کہا کہ نماز اور زکوۃ اور کسی کہنے والے نے کہا جہاد۳؎نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالٰی کو بہت پیاراعمل الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ہے ۴؎(احمد)اور ابوداؤد نے آخری حصہ روایت کیا ۵؎
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ تَعَالٰى؟ قَالَ قَائِلٌ: الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ. وَقَالَ قَائِلٌ: الْجِهَادُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى الحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوٰى أَبُوْدَاوُدَ الْفَصْلَ الْأَخِيْرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5021 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کوئی بندہ کسی بندے سے الله کے لیے نہیں محبت کرتا مگر وہ اپنے رب عزوجل کا احترام کرتا ہے ۱∞؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلّٰهِ إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهٗ عَزَّ وَجَلَّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5022 ، باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- 1
- 2