- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- دعاؤں کا بیان
- باب:جامع دعائیں
باب:جامع دعائیں
دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری سے وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔الٰہی میری خطائیں،میری نادانی اور میرے ہر کام میں حد سے بڑھ جانے کو بخش دے ۱؎اور جو کچھ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اسے بخش دے ۲؎الٰہی میری دانستہ اور نادانستہ اور ساری خطائیں اور برے ارادے جو میرے پاس ہیں ۳؎بخش دے الٰہی وہ بخش دے جو میں نے آگے کیے اور جو پیچھے کیے جو چھپ کرکیے۴؎اور جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۵؎تو ہی آگے بڑھانے والا ہے تو ہی پیچھے کردینے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے ۶؎(مسلم،بخاری) ۷؎
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهٗ كَانَ يَدْعُو بِهٰذَا الدُّعَاءِ: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّي اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي وَخَطَائِي وَعَمْدِي وكلُّ ذلكَ عِنْدِي اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أعلنت وَمَا أَنْت بِهٖ أَعْلَمُ بِهٖ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2482 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم یہ دعا مانگتے تھے الٰہی میرا دین ٹھیک فرما جو میرے کام کی حفاظت ہے ۱؎اور میری دنیا درست کردے جس میں میری زندگی ہے ۲؎اور میری آخرت درست فرمادے جہاں مجھے لوٹنا ہے ۳؎اور میری زندگی کو ہر بھلائی میں زیادتی بنا ۴؎اور میر ی موت کو ہر تکلیف سے راحت قرار دے ۵؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2483 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن مسعود سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ کہا کرتے تھے الٰہی میں تجھ سے ہدایت،تقویٰ، پاکدامنی اور تونگری مانگتا ہو ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَقُولُ:«اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدٰى وَالتُّقٰى وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰى».رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2484 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول االلّٰہصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اے علی کہو الٰہی مجھے ہدایت دے مجھے ٹھیک رکھ ۱؎اور ہدایت سے راستہ کی ہدایت کا خیال کر نا اور درستی سے تیر جیسی درستی مراد لینا ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَاذْكُرْ بِالهُدٰى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ وَبِالسَّدَادِ سَدَادَ السَّهْمِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2485 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابو مالک اشجعی سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تو اسے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نماز سکھاتے ۱؎پھر اسے حکم دیتے کہ ان کلمات سے دعا مانگا کرے الٰہی مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر مجھے ہدایت دے مجھے عافیت دے مجھے روزی دے ۲؎مسلم
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهٗ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2486 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی زیادہ دعا یہ تھی ۱؎الٰہی ہم کو دنیا میں بھلائی دے ۲؎اور آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ سے بچالے (مسلم،بخاری)۳؎
وَعَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اَللّٰهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2487 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم دعا مانگتے تو یوں عرض کرتے یارب میری مدد کر مجھ پر مدد اوروں کو نہ دے ۱؎مجھے نصرت بخش میرے مقابل نصرت نہ دے ۲؎میرے لیے تدبیر فرما میرے مقابل تدبیر نہ فرما ۳؎مجھے ہدایت دے اور میرے لیے ہدایت آسان فرما ۴؎مجھے ان پر فتح دے جو مجھ پر بغاوت کریں ۵؎یارب مجھے اپنا شکر گزار اپنا ذاکر اپنے سے خوف کرنے والا اپنا مطیع تیری طرف رجوع کرنے والا آہ و زاری کرنے والا لوٹنے والا بنا ۶؎یارب مری توبہ قبول کر میرے گناہ دھو دے میر ی دعا قبول فرما۷؎میری دلیل مضبوط کر،میری زبان درست رکھ،میرے دل کو ہدایت دے میرے سینے کی سیاہی دور کردے ۸؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: «رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدٰى لِي وَانْصُرْنِي عَلٰى مَنْ بَغٰى عَلَيَّ ربِّ اجعَلني لكَ شَاكِرًا لَكَ ذَاكِرًا لَكَ رَاهِبًا لَكَ مِطْوَاعًا لَكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاهْدِ قَلْبِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2488 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم منبر پر قیام فرما ہوئے پھر روئے ۱؎تو فرمایا اللّٰه سے معافی اور امن مانگو ۲؎کیونکہ کسی کو ایمان کے بعد امن سے بہتر کوئی نعمت نہ ملی ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے حسن ہے،غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍقَالَ: قَامَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى المِنْبَرِ ثُمَّ بَكٰى فَقَالَ: «سَلُوا اللّٰهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُعْطَ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2489 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت انس سے کہ ا یک شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا،عرض کیا یارسول اللّٰه دعا کون سی افضل ہے ۱؎فرمایا اپنے رب سے دنیا و آخرت میں امن و چین مانگو۲؎پھر وہ دوسرے دن حاضر ہوا عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کون سی دعا افضل ہے حضور نے اسی طرح پھر فرمایا ۳؎پھر وہ تیسرے دن حاضر ہوا پھر اسی طرح عرض کیا حضور نے فرمایا کہ جب تجھے دنیا و آخرت میں امن و معافی دے دی جائے تو تو کامیاب ہو جائے گا۴؎(ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے اسناد سے غریب ہے ۵؎
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «سَلْ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ ذٰلِكَ قَالَ: «فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ وَالْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2490 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن یزید خطمی سے ۱؎وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے الٰہی مجھے اپنی محبت نصیب کر اور اس کی محبت بھی جس کی محبت تیرے ہاں نفع دے ۲؎الٰہی مجھے جو تو میری پسندیدہ چیز دے تو اس میں مجھے اس کی قوت بخش جسے تو پسند فرماتا ہے ۳؎الٰہی جو میری محبوب چیز تو مجھ سے دور رکھے تو اسے میرے لیے اپنی محبوب چیز میں فراغت بنادے۴؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهٖ : «اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهٗ عِنْدَكَ اَللّٰهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيمَا تُحِبُّ اَللّٰهُمَّ مَا زَوَيْتَ عَنِّي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَاغًا لِي فِيمَا تُحِبُّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2491 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم بہت کم کسی مجلس سے اٹھتے حتّٰی کہ اپنے صحابہ کے لیے یہ دعائیں مانگ لیتے ۱؎الٰہی ہمیں اپنے خوف سے وہ حصہ عطا فرما جس سے تو ہمارے اور اپنی نافرمانیوں کے درمیان آڑ ہو جائے ۲؎اور اپنی اطاعت سے وہ حصہ دے جس سے ہمیں تو اپنی جنت میں پہنچا دے ۳؎اور یقین کا وہ حصہ دے جس سے تو ہم پر دنیاوی مصیبتیں آسان کردے ۴؎اور ہمیں ہمارے کانوں اور آنکھوں اور قوت سے نفع دے جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ۵؎اور اسے ہمارا وارث بنا ۶؎اور ہمارا غضب اس پر ڈال جو ہم پر ظلم کرے ۷؎اور ہم کو ان پر فتح دے جو ہم سے دشمنی کریں ۸؎اور ہمارے دین میں ہم پر مصیبت نہ دے ۹؎اور دنیا کو ہمارا نہ بڑا مقصود بنا اور نہ ہمارے علم کا منتہا بنا۱۰؎ہم پر اسے مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے ۱۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے ۱۲؎
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ مَجْلِسٍ حَتّٰى يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ لِأَصْحَابِهٖ : «اَللّٰهُمَّ اَقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهٖ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهٖ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهٖ عَلَيْنَا مُصِيْبَاتِ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلٰى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلٰى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلْ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2492 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ فرمایا کرتے تھے الٰہی تو مجھے اس سے نفع دے جو تو نے مجھے سکھایا اور مجھے نافع چیزیں سکھا اور میرا علم بڑھا ۱؎ہر حال میں اللّٰه کا شکر ہے ۲؎اور دوزخیوں کے حال سے اللّٰه کی پناہ لیتا ہوں۳؎(ترمذی،ابن ماجہ) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي وَزِدْنِي عِلْمًا الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2493 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم پر جب وحی اترتی تو آپ کے چہرہ انور کے پاس شہد کی مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ سنی جاتی تھی ۱؎ایک دن آپ پر وحی اتری تو ہم کچھ ٹھہرے پھر وہ حالت جاتی رہی ۲؎حضور نے قبلہ کو منہ کیا دونوں ہاتھ اٹھائے ۳؎اور عرض کیا الٰہی سب کو بڑھا دے گھٹا مت،ہمیں عزت دے ہمیں ذلیل نہ کر،ہمیں عطائیں دے محروم نہ کر،ہم کو ترجیح دے ہم پر اوروں کو ترجیح نہ دے،ہم کو راضی کر ہم سے راضی ہوجا۴؎پھر فرمایا ہم پر دس آیتیں اتری ہیں جو انہیں قائم کرے(عمل کرے)تو جنت میں جائے گا پھر تلاوت کی "قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ"دس آیات تک ۵؎(احمد،ترمذی)
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ سُمِعَ عِنْدَ وَجْهِهٖ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَسُرِّيَ عَنْهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اَللّٰهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَأَرْضِنَا وَارْضَ عَنَّا» . ثُمَّ قَالَ: «أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ» ثُمَّ قَرَأَ: (قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ)
حَتَّى خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2494 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت عثمان ابن حنیف سے فرماتے ہیں ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۱؎عرض کیا حضور اللّٰه سے دعا کریں کہ مجھے آرام دے ۲؎فرمایا اگر تو چاہے تو دعا کردوں اور اگر چاہے تو صبر کر یہ صبر تیرے لیے اچھا ہے ۳؎وہ بولا حضور رب سے دعا کردیں۴؎راوی کہتے ہیں تو حضور نے اسے حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرے اور یہ دعا مانگے ۵؎الٰہی میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف رحمت والے نبی حضور محمد مصطفی کے توسل سے متوجہ ہوتا ہوں۶؎یارسول اللّٰہ میں آپ کے توسل سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں تاکہ وہ میری حاجت پوری کردے ۷؎الٰہی میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر ۸؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتٰى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰه أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» . قَالَ: فَادْعُهٗ قَالَ: فَأَمَرَهٗ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ الْوُضُوءَ وَيَدْعُو بِهٰذَا الدُّعَاءِ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهٗ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلٰى رَبِّي لِيَقْضِيَ لِي فِي حَاجَتِي هٰذِهٖ اَللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2495 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے داؤد علیہ السلام کی دعا یہ تھی کہ آپ عرض کرتے تھے الٰہی میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں ۱؎اور وہ عمل مانگتا ہوں جو تیری محبت تک پہنچادے ۲؎الٰہی مجھے اپنی محبت کو میری جان و مال گھر بار اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنادے ۳؎راوی فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جب داؤد علیہ السلام کا ذکر فرماتے تو کہتے کہ وہ عابد ترین انسان تھے ۴؎(ترمذی )اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ دُعَاءِ دَاوُدَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمَالِي وَأَهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ» . قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ يُحَدِّثُ عَنْهُ يَقُولُ: «كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2496 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت عطا بن سائب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں ہم کو حضرت عمار ابن یاسر نے نماز پڑھائی تو اس میں اختصار فرمایا۲؎تو ان سے بعض لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے نماز بہت ہلکی اور مختصر پڑھی تو فرمایا مجھے اس کا کوئی نقصان نہیں میں نے اس میں وہ دعائیں مانگ لی ہیں جو میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سنیں ۳؎جب آپ اُٹھے تو قوم میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے چلا وہ میرے والد تھے،ہاں انہوں نے اپنی ذات کو کنایۃً ذکر کیا ۴؎تو ان سے وہ دعا پوچھی پھر آئے وہ دعا قوم کو بتائی ۵؎الٰہی اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے صدقہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک کہ زندگی کو میرے لیے بہتر جانے اور وفات دے دے جب موت کو میرے لیے بہتر جانے ۶؎الٰہی میں تجھ سے تیرا خوف مانگتا ہوں ظاہر و باطن میں ۷؎اور تجھ سے خوشی و ناخوشی میں سچی بات کی توفیق مانگتا ہوں۸؎اور تجھ سے امیری غریبی میانہ روی مانگتا ہوں ۹؎اور تجھ سے نہ مٹنے والی نعمت مانگتا ہوں اور تجھ سے وہ آنکھ کی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو بند نہ ہو ۱۰؎اور تجھ سے رضا بقضا مانگتا ہوں اور تجھ سے بعد موت کے ٹھنڈی زندگی مانگتا ہوں ۱۱؎اور تجھ سے تیری ذات کو دیکھنے کی لذت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں بغیر مضر چیز کے نقصان اور بغیر گمراہ کن فتنہ کے ۱۲؎اے اللّٰه ہم کو ایمان کی زینت سے آراستہ کر ۱۳؎اور ہم کو ہدایت دینے والے ہدایت پانے والا بنا۱۴؎(نسائی )۱۵؎
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلّٰى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ لَهٗ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَقَدْ خَفَّفْتَ وَأَوْجَزْتَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَمَا عَلَيَّ ذٰلِكَ لَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهٗ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ هُوَ أَبِي غَيْرَ أَنَّهٗ كَنَّى عَنْ نَفْسِهٖ فَسَأَلَهٗ عَنِ الدُّعَاءِ ثُمَّ جَاءَ فَأَخْبَرَ بِهِ القَوْمَ: «اَللّٰهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وقُدرتِكَ عَلَى الخَلقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اَللّٰهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَآءِ وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنٰى وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُكَ الرِّضَآءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلٰى وَجْهِكَ وَالشَّوْقِ إِلٰى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اَللّٰهُمَّ زِيِّنَا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2497 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نماز فجر کے بعد یہ کہتے تھے الٰہی میں تجھ سے نفع بخش علم، مقبول عمل اور حلال طیب روزی مانگتا ہوں ۱؎(احمد،ابن ماجہ،بیہقی دعوات کبیر)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْفَجْرِ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2498 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے ایک دعا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے یاد کی ہے جسے میں کبھی نہیں چھوڑتا،الٰہی مجھے تو ایسا کردے کہ تیرا بہت شکر کروں اور تیرا بہت ذکر کروں ۱؎اور تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دُعَاءٌ حَفِظْتُهٗ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهٗ : «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتَّبِعُ نُصْحَكَ وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2499 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ فرمایا کرتے تھے اے اللّٰه میں تجھ سے تندرستی،پاک دامنی،امانت داری اور اچھے اخلاق اور تقدیر پر رضا مانگتا ہوں ۱؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصِّحَّةَ وَالْعِفَّةَ وَالأَمَانَةَ، وَحُسْنَ الْخُلُقِ، وَالرِّضَى بِالْقَدَرِ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2500 ، باب:جامع دعائیں
روایت ہے حضرت ام معبد سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا الٰہی میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو دکھلاوے سے اور میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو بددیانتی سے پاک رکھ ۲؎کیونکہ تو جانتا ہے خیانت والی آنکھ کو اور اس کو جسے سینے چھپاتے ہیں ۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کیں۔
وَعَن أُمِّ مَعْبدٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2501 ، باب:جامع دعائیں
- 1
- 2