باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جھوٹی باتیں اور برے کام نہ چھوڑے ۱؎تو اللہ تعالٰی کو اس کے کھانا پانی چھوڑ دینے کی پرواہ نہیں ۲؎(بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1999 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوس و کنار کرلیتے تھے اور حضور اپنے نفسی حاجت پر سب سے زیادہ مالک(قادر)تھے ۱؎(مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِأَرَبِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2000 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان میں بحالت جنابت صبح ہوتی تھی ۱؎احتلام کے بغیر ۲؎پھر آپ غسل کرتے اور روزہ رکھتے ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ غَيْرِ حُلْمٍ، فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2001 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت احرام اور بحالت روزہ فصدلی ۱؎(مسلم، بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2002 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو بحالت روزہ بھول جائے کھاپی لے وہ اپنا روزہ پورا کرے ۱؎کہ اسے رب تعالٰی نے کھلایا پلایا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللّٰهُ وَسَقَاهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2003 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تھے کہ حضور کی خدمت میں ایک شخص آیا ۱؎عرض کیا یارسول اللہ میں تو ہلاک ہوگیا ۲؎فرمایا تجھے کیا ہوا عرض کیا میں نے بحالت روزہ اپنی بیوی سے صحبت کرلی ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو غلام پاتا ہے جسے آزادکردے ۴؎بولا نہیں فرمایا تو کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتا ہے بولا نہیں ۵؎فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کا کھانا پاتا ہے بولا نہیں ۶؎فرمایا بیٹھ جا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ توقف فرمایا ۷؎ہم اسی حال میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زنبیل لائی گئی جس میں کھجوریں تھیں عرق بڑی زنبیل ہوتی ہے ۸؎فرمایا مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے بولا میں ہوں فرمایا یہ لے لے اور صدقہ کردے ۹؎اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر صدقہ کروں خدا کی قسم مدینہ کے دو گوشوں یعنی دو سنگلاخوں کے بیچ میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی خاندان محتاج نہیں ۱۰؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے حتی کہ آپ کے دانت مبارک چمک گئے ۱۱؎فرمایا اپنے گھر والوں کو ہی کھلا ۱۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هَلَكْتُ، قَالَ: "مَا لَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "هَلْ تَجدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: "اجْلِسْ" وَمَكَثَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذٰلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، -وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ- قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ؟ " قَالَ: أَنَا، قَالَ: "خُذْ هٰذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ فَوَاللّٰهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا -يُرِيدُ الْحَرَّتَيْنِ- أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: "أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2004 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحالت روزہ انہیں چومتے اور ان کی زبان شریف چوستے تھے ۱؎(ابوداؤد)۲؎

عَن عَائِشَة: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ، وَيَمَصُّ لِسَانَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2005 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص نے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بوس و کنار کے متعلق پوچھا آپ نے اسے اجازت دے دی ۱؎خدمت عالی میں دوسرا حاضر ہوا اور یہ ہی پوچھا تو اسے منع فرمادیا جس کو اجازت دی تھی وہ بڈھا تھا اور جسے منع کیا وہ جوان تھا ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أَبِي هُرَيرَةَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِم فَرَخَّصَ لَهُ. وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ فَنَهَاهُ، فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهٗ شَيْخٌ، وَإِذَا الَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2006 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جسے روزہ کی حالت میں قے آجائے تو اس پر قضا نہیں اور جو جان کر قے کرے وہ قضا کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم سوائے عیسیٰ ابن یونس کسی سے نہیں معلوم کرتے،امام محمد بخاری نے فرمایا کہ میں انہیں محفوظ نہیں جانتا ۲؎

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونسُ. وَقَالَ مُحَمَّد -يَعْنِي البُخَارِيَّ- لَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2007 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ ۱؎سے کہ ابو الدرداء نے انہیں خبردی کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطارکردیا۲؎فرماتے ہیں کہ میں دمشق کی مسجد میں حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ حضرت ابوالدرداء نے مجھے خبر دی کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو روزہ افطار فرمادیا فرمایا انہوں نے سچ کہا اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی انڈیلا۳؎(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)

وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ في مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ حَدَّثَنِي أَن رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَاءَ فَأَفْطَرَ. قَالَ: صَدَقَ، وَأَنَا صَبَبْتُ لَهٗ وَضُوْءَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2008 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت عامر ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار دفعہ روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)۲؎

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2009 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا میں آنکھوں کا بیمار ہوں کیا بحالت روزہ سرمہ لگاسکتا ہوں فرمایا ہاں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ابو عاتکہ راوی ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: اشْتَكَيْتُ عَيْنَيَّ أفأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ" رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَأَبُو عَاتِكَةَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2010 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام عرج میں ۱؎بحالت روزہ سر مبارک پر پیاس یا گرمی کی وجہ سے پانی ڈالتے دیکھا ۲؎(مالک،ابوداؤد)

وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2011 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک شخص پر تشریف لائے جو فصد لے رہا تھا حضور انور میرا ہاتھ پکڑے تھے ۱؎رمضان کے اٹھارہ دن گزر چکے تھے تو فرمایا فصد لینے والے اور فصدکرانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)شیخ امام السنۃ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جن بعض علماء نے فصد کی اجازت دے دی وہ اس کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ دونوں قریب الافطار ہوگئے فصد کرانے والا تو ضعف کی وجہ سے اور فصدکرنے والا اس لیے کہ وہ اس سے امن میں نہیں کہ سینگی چوسنے کی وجہ سے اس کے پیٹ میں کچھ پہنچ جائے ۳؎

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَتَي رَجُلًا بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَحْتَجِمُ، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي لِثَمَانِيَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ: "أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. قَالَ الشَّيْخُ الإِمَامُ مُحْيِي السُّنَّةِ رَحِمَةُ اللّٰهِ عَلَيْهِ: وَتأَوَّلَهُ بَعْضُ مَنْ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ: أَيْ تَعَرَّضَا لِلإفْطَارِ: الْمَحْجُومُ لِلضَّعْفِ، وَالْحَاجِمُ لأَنَّهُ لَا يَأْمَنُ مِنْ أَنْ يَصِلَ شَيْءٌ إِلَى جَوْفِهِ بِمَصِّ الْمَلَازِمِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2012 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو رمضان میں بغیر شرعی اجازت اور بغیر بیماری ایک دن کا روزہ نہ رکھے تو اگرچہ پھر عمر بھر روزہ رکھے اس کی قضا نہ کرے گا ۱؎(احمد،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ دارمی)اور بخاری نے ترجمہ باب میں روایت کیا۔ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد یعنی امام بخاری کو فرماتے سنا کہ ابو المطوس راوی سے اس حدیث کے سواء اور حدیث مجھے معلوم نہیں ۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ وَإِنْ صَامَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا -يَعْنِي البُخَارِيَّ- يَقُولُ: أَبُو الْمُطَوِّسِ الرَّاوِي لَا أَعْرِفُ لَهٗ غَيْرَ هٰذَا الْحَدِيثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2013 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے روزے دار وہ ہیں جنہیں روزوں سے پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ۱؎اور بہت سے شب خیز وہ ہیں جنہیں شب خیزی میں بے خوابی کے سواء کچھ میسر نہیں ۲؎(دارمی)اور لقیط ابن صبرہ کی حدیثباب سنن الوضوءمیں بیان کردی گئی۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهٗ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهٗ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَذُكِرَ حَدِيثُ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ فِي "بَابِ سُنَنِ الوُضُوءِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2014 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزیں روزہ دار کا روزہ نہیں توڑتیں فصد،قے،احتلام ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غیر محفوظ ہے اورعبد الرحمن ابن زید راوی حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں ۲؎

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثٌ لَا يُفْطِرْنَ الصَّائِمَ: الْحِجَامَةُ، وَالْقَيْءُ، وَالِاحْتِلَامُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زيْدٍ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2015 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت ثابت بنانی سے ۱؎فرماتے ہیں حضرت انس بن مالک سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں روزہ دار کے لیے فصد ناپسند کرتے تھی ۲؎فرمایا نہیں مگر ضعف کی وجہ سے ۳؎(بخاری)

وَعَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: كُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِم عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ قَالَ: لَا إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2016 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے امام بخاری سے تعلیقًا ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر روزہ کی حالت میں فصد لیتے تھے پھر چھوڑ دی پھر رات میں فصد لیتے تھے ۲؎

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَجمُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَكَانَ يَحْتَجِمُ بِاللَّيْلِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2017 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا

روایت ہے حضرت عطاء سے فرماتے ہیں اگر کلی کرے پھر منہ میں کا پانی اگل دے تو اسے تھوک کا اور جو پانی کا اثر اس کے منہ میں رہ گیا ہے اسے نگل جانا مضر نہیں ۱؎اور علک(مصطگی)نہ چبائے ۲؎اگر علک والا تھوک نگل گیا تو میں یہ نہیں کہتا کہ روزہ ٹوٹ جائے گا لیکن اس سے منع کرنا چاہیے۳؎(بخاری)ترجمہ باب

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِنْ مَضْمَضَ ثُمَّ أَفْرَغَ مَا فِي فِيهِ مِنَ الْمَاءِ لَا يَضِيرُهُ أَنْ يَزْدَرِدَ رِيقَهُ وَمَا بَقِيَ فِي فِيهِ،وَلَا يَمْضَغُ الْعِلْكَ، فَإِنِ ازْدَرَدَ رِيقَ الْعِلْكِ لَا أَقُولُ: إِنَّهُ يُفْطِرُ، وَلَكِنْ يُنْهَى عَنْهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ بَابٍ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2018 ، باب :روزے کو پاک و صاف رکھنا