باب :آدابِ تلاوت

قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی نگرانی رکھو ۱؎اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ قرآن ر سی میں بندھے اونٹ سے زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ،فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ لَهْوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِيْ عُقُلِهَا".
مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2187 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ بھلادیا گیا ۱؎اور قرآن یادکرتے رہو کیونکہ قرآن لوگوں کے سینوں سے وحشی جانور سے بھی زیادہ بھاگ جانے والا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)اورمسلم نے یہ زیادہ کیا کہ اپنی رسی سے۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "بِئْسَ مَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُوْلَ: نَسِيْتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ نُسِّيَ، وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ؛ فَإِنَّهٗ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُوْرِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.وَزَادَ مُسْلِمٌ: "بِعُقُلِهَا".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2188 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن والے کی مثال بندھے اونٹ والے کی سی ہے اگر اس کی نگہبانی کرے گا تو اسے روک لے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو بھاگ جائے گا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2189 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت جندب ابن عبد اللہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک تمہارا دل لگے قرآن پڑھتے رہو ۱؎پھر جب ادھر ادھر ہونے لگو تو اس سے اٹھ جاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوْبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُوْمُوْا عَنهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2190 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں حضرت انس سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کیسی تھی ۱؎تو فرمایا مد سے تھی کھینچ کر پھر آپ نے پڑھابسم اﷲ الرحمن الرحیمکہبسم اﷲکو کھینچتے تھے پھررحمانکو اوررحیمکو کھینچتے تھے ۲؎(بخاری)

وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-؟ فَقَالَ: كَانَتْ مَدًّا مَدًّا، ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللّٰهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمٰنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيْمِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2191 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کو جتنا خوش الحانی سے تلاوت قرآن کا حکم دیا اتنا کسی اور چیز کا نہ دیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا أَذِنَ اللّٰهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنّٰى بِالْقُرْآنِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2192 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ نے کسی چیز کا اتنا حکم نہ دیا جتنا نبی کو خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا حکم دیا ۱؎

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا أَذِنَ اللّٰهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسِنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهٖ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2193 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2194 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ آپ منبر پر تھے میرے سامنے تلاوت کرو ۱؎میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے سامنے کیا پڑھوں آپ پر ہی تو قرآن اترا ہے ۲؎فرمایا میں چاہتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۳؎میں نے سورۂ نساء پڑھی حتی کہ میں اس آیت پر پہنچ گیا کہ کیا ہوگا جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنائیں گے ۴؎فرمایا اب بس کرو میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی آنکھیں اشک بارتھیں۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: "اقْرَأْ عَلَيَّ". قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: "إِنِّيْ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهٗ مِنْ غَيْرِيْ". فَقَرَأْتُ سُوْرَةَ النِّسَاءِ حَتّٰى أَتَيْتُ إِلٰى هٰذِهِ الآيَةِ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلٰى هَؤُلَاءِ شَهِيْدًا قَالَ: "حَسْبُكَ الآنَ"، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2195 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے ابی ابن کعب سے فرمایا کہتعالٰی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۱؎عرض کیا کہنے میرا نام لیا فرمایا ہاں عرض کیا کیا رب العٰلمین کی بارگاہ میں میرا ذکر ہوا ۲؎فرمایا ہاں تو آپ کی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے ۳؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ مجھے انے حکم دیا کہ تم پر"لم یکن الذین کفروا" تلاوت کروں عرض کیا گیا رب تعالٰی نے میرا نام لیا فرمایا ہاں ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- لأُبَيِّ بْنِ كعْبٍ: "إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَنِيْ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ" قَالَ: اللّٰهُ سَمَّانِيْ لَكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ: وَقَدْ ذُكِرْتُ عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ؟ قَالَ: "نَعَمْ". فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ: إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَنِيْ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ، قَالَ: وَسَمَّانِيْ؟ قَالَ: "نَعَمْ". فَبَكٰى. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2196 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی زمین میں قرآن کے ساتھ سفر کرنے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ قرآن لے کر سفر نہ کرو کہ مجھے اطمینان نہیں کہ اسے دشمن لے لے۲؎

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلٰى أَرْضِ الْعَدُوِّ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمِ: "لَا تُسَافِرُوْا بِالْقُرْآنِ، فَإِنِّيْ لَا آمَنُ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2197 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں کمزور مہاجروں کی جماعت میں بیٹھا تھا ۱؎وہ حضرات برہنگی کے باعث بعض بعض کی آڑ لیتے تھے ۲؎ایک قاری ہم پر تلاوت کررہے تھے۳؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم کھڑے ہوگئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو قاری خاموش ہوگئے حضور نے سلام کیا ۴؎پھر حضور نے فرمایا تم کیا کررہے تھے ۵؎ہم نے عرض کیا ہم اللہ کی کتاب بغور سن رہے تھے ۶؎فرمایا شکر ہے اس خدا کا جس نے میری امت میں وہ لوگ پیدا کئے جن کے ساتھ رہنے کا مجھے حکم دیا گیا پھر ہمارے درمیان ۷؎تشریف فرما ہوگئے تاکہ اپنے کو ہمارے برابر رکھیں ۸؎پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ یوں ہوجاؤ لوگ حلقہ بن گئے کہ سب کے چہرے حضور کے سامنے ہوگئے ۹؎فرمایا اے فقراء مہاجرین کی جماعت تمہیں قیامت کے دن کے مکمل نور کی بشارت ہو ۱۰؎تم جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے جاؤ گے یہ آدھا دن پانچ سو سال ہیں ۱۱؎(ابو داؤد)

عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَلَسْتُ فِيْ عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِيْنَ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا، إِذْ جَاءَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- سَكَتَ الْقَارِئُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: "مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ؟ " قُلْنَا: كُنَّا نَسْتَمِعُ إِلٰى كِتَابِ اللّٰهِ، فَقَالَ: "الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ مِنْ أُمَّتِيْ مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِيْ مَعَهُمْ". قَالَ: فَجَلَسَ وَسَطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِيْنَا، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهٖ هَكَذَا، فَتَحَلَّقُوْا وَبَرَزَتْ وُجُوْهُهُمْ لَهٗ، فَقَالَ: "أَبْشِرُوْا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيْكِ الْمُهَاجِرِيْنَ بِالنُّوْرِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ، وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2198 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو اپنی آوازوں سے زینت دو ۱؎(احمد،ابن ماجہ،دارمی)۲؎

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ"،رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2199 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت سعد ابن عبادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی نہیں جو قرآن پڑھ کر بھلا دے مگر وہ قیامت کے دنتعالٰی سے کوڑھی ہو کر ملے گا ۱؎(ابو داؤد،دارمی)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنِ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللّٰهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ"رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2200 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت عبدابن عمرو سے کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تین دن سے کم میں قرآن کریم ختم کرے وہ سمجھے گا نہیں ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،دارمی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِيْ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2201 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ قرآن پڑھنے والا علانیہ صدقہ دینے والے کی طرح ہے اور آہستہ قرآن پڑھنے والا خفیہ صدقہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2202 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت صہیب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شخص قرآن پر ایمان ہی نہ لایا جو اس کے محرمات کو حلال جانے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ۲؎

وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهٗ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2203 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت لیث ابن سعد سے وہ ابو ملیکہ سے وہ یعلٰی ابن مملک سے راوی ۱؎کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت قرآن کی متعلق پوچھا تو آپ حضور کی قرأۃ اس طرح بتانے لگیں کہ ایک ایک حرف الگ الگ ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِيْ مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2204 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت ابن جریج سے وہ ابن ابو ملیکہ سے وہ حضرت ام سلمہ سے راوی فرماتی ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے ۱؎اس طرح کہ پڑھتےالحمد ﷲ رب العلمینپھرٹھہر جاتے پھر پڑھتےالرحمن الرحیمپھر ٹھہر جاتے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا اس حدیث کی اسناد مسلسل نہیں ۳؎کیونکہ یہ حدیث لیث نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے یعلی ابن مملک سے انہوں نے ام سلمہ سے روایت کی لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے۴؎

وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجِ عَنِ ابْنِ أَبِيْ مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهٗ، يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ثُمَّ يَقِفُ، ثُمَّ يَقُولُ: الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ثُمَّ يَقِفُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ، لأَنَّ اللَّيْثَ رَوٰى هٰذَا الْحَدِيْثَ عَنِ ابْنِ أَبِيْ مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَحَدِيْثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2205 ، باب :آدابِ تلاوت

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر تشریف لائے جب ہم قرآن پڑھ رہے تھے عربی اور عجمی سب ہی تھے ۱؎فرمایا پڑھے جاؤ سب ٹھیک ہو ۲؎کچھ قومیں ایسی ہوں گی جو تلاوت کو ایسے درست کریں گی جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے ۳؎دنیا میں اجرت لیں گے آخرت کے لیے نہ رکھیں گے ۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَفينَا الأَعرَابِيُّ وَالأَعْجَمِيُّ، فَقَالَ: "اقْرَؤُوْا فَكُلٌّ حَسَنٌ،وَسَيَجِيْءُ أَقْوَامٌ يُقِيْمُونَهٗ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ، يَتَعَجَّلُونَهٗ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2206 ، باب :آدابِ تلاوت