- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- باب :آدابِ تلاوت
باب :آدابِ تلاوت
قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید عربی لہجوں اور عربی آوازں سے پڑھو ۱؎عشق والوں کی راگنیوں اور توریت و انجیل والوں کے لہجوں سے بچو ۲؎ہمارے بعد وہ قومیں آئیں گی جو قرآن میں ایسی گلے بازیاں کریں گے جیسے گانے اور نوحے میں۳؎قرآن ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا ۴؎ان کے اور انہیں پسند کرنے والوں کے دل فتنہ میں مبتلا ہوں گے ۵؎(بیہقی شعب الایمان)اور رزین نے اپنی کتاب میں۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اِقْرَؤُوا الْقُرْآنَ بِلُحُوْنِ الْعَرَبِ وَأَصْوَاتِهَا، وَإِيَّاكُمْ وَلُحُوْنَ أَهْلِ الْعِشْق وَلُحُوْن أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَسَيَجِيْءُ بَعدِيْ قَومٌ يُرَجِّعُوْنَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيْعَ الْغِنَاءِ وَالنَّوْحِ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ،مَفْتُوْنَةٌ قُلُوْبُهُمْ وَقُلُوْبُ الَّذِيْنَ يُعْجبُهُمْ شَأْنُهُمْ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ" وَرَزِيْنٌ فِيْ كِتَابِهٖ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2207 ، باب :آدابِ تلاوت
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں میں نے رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو کیونکہ اچھی آواز قرآن کا حسن بڑھا دیتی ہے ۱؎(دارمی)
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُوْلُ: "حَسِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ، فَإِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ يَزِيْدُ الْقُرْآنَ حُسْنًا". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2208 ، باب :آدابِ تلاوت
روایت ہے حضرت طاؤس سے ارسالًا فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون شخص قرآن میں خوش آواز اور اچھی قرأت والا ہے ۱؎فرمایا وہ جسے تم جب قرآن پڑھتے سنو تو محسوس کرو کہ وہ اللہ سے ڈررہا ہے ۲؎طاؤس فرماتے ہیں کہ طلق ایسے ہی تھے ۳؎(دارمی)
وَعَنْ طَاوُوْسٍ مُرْسَلًا قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَيُّ النَّاسِ أَحْسَنُ صَوْتًا لِلْقُرْآنِ؟ وَأَحْسَنُ قِرَاءَةً؟ قَالَ: "مَنْ إِذَا سَمِعْتَهٗ يَقْرَأُ أُرِيْتَ أَنَّهٗ يَخْشَى اللّٰهَ". قَالَ طَاوُوْسٌ: وَكَانَ طَلْقٌ كَذٰلِكَ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2209 ، باب :آدابِ تلاوت
روایت ہے حضرت عبیدہ ملیکی سے ان کو جناب مصطفٰی کی صحبت میسر تھی ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے قرآن والو ۲؎قرآن کو تکیہ نہ بناؤ ۳؎اور دن رات اس کی تلاوت کرو جیسا کہ تلاوت کا حق ہے ۴؎اور قرآن کا اعلان کرو اسے خوش آوازی سے پڑھو اس کے معنے میں غور کرو تاکہ تم کامیاب ہو۵؎اور اس کا ثواب جلدی نہ مانگو کہ اس کا ثواب بہت ہے۶؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ عَبِيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ -وَكَانَتْ لَهٗ صُحْبَةٌ- قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ! لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ، وَاتْلُوْهُ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ مِنْ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَفْشُوْهُ وَتَغَنُّوْهُ وَتَدَبَّرُوْا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ، وَلَا تُعَجِّلُوْا ثَوَابَهٗ فَإِنَّ لَهٗ ثَوَابًا". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ "شُعَبِ الإِيْمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2210 ، باب :آدابِ تلاوت
- 1
- 2