- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : وتر کا بیان
باب : وتر کا بیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ رات کی نماز دو دور رکعتیں ہیں ۱؎پھر جب تم میں سے کوئی صبح کا خوف کرے۲؎تو ایک رکعت اور پڑھ لے جو اس کی پڑھی ہوئی نماز کو طاق بنادے گی۳؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنٰى مَثْنٰى فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلّٰى رَكْعَةً وَاحِدَة ًتُوْتِرُ لَهٗ مَا قَدْ صَلّٰى »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1254 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ وتر آخری رات میں ایک رکعت ہے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ اٰخِرِ اللَّيْلِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1255 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے پانچ رکعت وتر پڑھتے جن میں آخر کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۱∞؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْ ذٰلِكَ بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِيْ شَيْءٍ إِلَّا فِيْ اٰخِرِهَا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1256 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ابن ہشام ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس گیا عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کی خبر دیجئے آپ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے میں نے کہا ہاں بولیں نبی صلی الله علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۲؎میں نے عرض کیا اے ام المؤمنین مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے وتر کی خبر دیجئے فرمایا ہم آپ کی مسواک اور طہارت کا پانی تیار کردیتے تھے ۳؎تو رات میں جب الله چاہتا انہیں اٹھاتا تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے جن میں آٹھویں کے سوا کہیں نہ بیٹھتے ۴؎پھر الله کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اس سے دعا مانگتے پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوتے ۵؎تو نویں رکعت پڑھ لیتے پھر بیٹھتے پھر الله کا ذکر کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے پھر سلام کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اے بچے یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں ۶؎پھر جب حضور صلی الله علیہ وسلم سن رسیدہ اور کمزور ہوگئے تو سات رکعتیں وتر پڑھنے لگے ۷؎اور دو رکعتوں میں پہلی رکعتوں کا سا عمل کرتے ۸؎اے بچے یہ نو ہوئیں اور حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی کو پسند فرماتے اور جب آپ کو نیند یا تکلیف رات کو اٹھنے سے مانع ہوتی تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیتے ۹؎اور مجھے خبر نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سارا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو اور نہ یہ کہ ساری رات صبح تک نماز پڑھی ہو اور نہ یہ کہ رمضان کے سوا کسی مہینے کا پورا روزہ رکھا ہو ۱۰؎(مسلم)
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلٰى عَائِشَةَ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلٰى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهٗ سِوَاكَهٗ وَطَهُورَهٗ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهٗ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللهَ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَمَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إِحْدٰى عَشَرَةَ رَكْعَةً يَابُنَيَّ فَلَمَّا أَسَنَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهٖ فِي الْأُولٰى فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَكَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلّٰى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا غَلَبَهٗ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلّٰى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَهٗ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلّٰى لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلاً غَيْرَ رَمَضَانَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1257 ، باب : وتر کا بیان
۱∞؎روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا اپنی رات کی آخری نماز وتر بناؤ ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1258 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے انہی سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا صبح سے پہلے وتر پڑھ لو ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَادِرُوْا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ» . وَرَاه مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1259 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو آخر رات میں نہ اٹھنے کا خوف کرے وہ اول رات میں وتر پڑھ لے ۱؎ اور جسے آخر شب میں اٹھنے کی امید ہو وہ آخر شب میں وتر پڑھے کیونکہ آخر شب کی نماز حاضری ملائکہ سے مشرف ہے اور یہ بہتر ہے ۲؎ (مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ خَافَ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أَوَّلَهٗ وَمَنْ طَمَعَ أَنْ يَقُومَ آخِرَهٗ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَذٰلِكَ أَفْضَلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1260 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ر سول الله صلی الله علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی ہے اول شب میں درمیانی میں آخری میں اور آپ کے وتر سحر پر منتہی ہوئے ۱∞؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهٖ وَآخِرِهٖ وَانْتَهٰى وَتْرُهُ الى السَّحَرِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1261 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں مجھے میرے محبوب نے تین چیزوں کی وصیت کی ہر ماہ میں تین روزوں کی ۱∞؎چاشت کی دو رکعتوں کی اور یہ کہ سونے سے پہلے وتر پڑھا کروں ۲؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَ رَكْعَتَيِ الضُّحٰى وَأَنْ أُوْتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1262 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت غضیف ابن حارث سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ فرمایئے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم غسل جنابت اول شب میں کرتے تھے یا آخر میں فرمایا اکثر اول شب میں غسل کرتے تھے اور اکثر آخر میں ۲؎میں نے کہالله اکبرخدا کا شکر ہے اس کام میں گنجائش رکھی میں نے عرض کیا کہ اول رات میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں فرمایا بارہا اول رات میں وتر پڑھتے تھے بار ہا آخر میں ۳؎میں نے کہالله اکبرخدا کا شکر ہے جس نے اس معاملہ میں گنجائش دی میں نے عرض کیا کہ بلند قرأت کرتے تھے یا آہستہ فرمایا بارہا بلند کرتے تھے بارہا آہستہ ۴؎میں نے کہالله اکبرخدا کا شکر ہے جس نے اس میں گنجائش دی۔(ابو داؤد)اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی۔
عَن غَضِيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهٖ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهٖ قُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سِعَةً قُلْتُ: كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهٖ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهٖ قُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سِعَةً قُلْتُ: كَانَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَخْفُتُ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهٖ وَرُبَّمَا خَفَتَ قُلْتُ: اللهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سِعَةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1263 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت عبد الله ابن ابی قیس سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کتنے وتر پڑھتے تھے فرمایا چار اور تین،چھ اور تین،آٹھ اور تین،دس اور تین پڑھتے تھے ۲؎سات سے کم نہ پڑھتے تھے اور تیرہ سے زیادہ نہ پڑھتے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِيْ قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَلَابِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشَرَةَ.رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1264 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر وتر لازم ہیں ۱∞؎جو پانچ وتر پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے ۲؎جو تین پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۳؎جو ایک پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۴؎(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْوِتْرُ حَقٌّ عَلیٰ كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1265 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله وتر ہے ۱∞؎وتر کو پسند فرماتا ہے ۲؎تو اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّ اللهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1266 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت خارجہ ابن حذافہ سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ الله نے ایک نماز سے تمہاری مدد فرمائی ۱∞؎جو تمہارے لیئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۲؎(وتر)اسے الله نے تمہارے لیئے نماز عشاء و طلوع فجر کے درمیان ر کھا ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النِّعَمِ: الْوَتْرُ جَعَلَهُ اللهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلٰى أَنْ يَطْلَعَ الْفَجْرُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1267 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو وتر کے بغیر سوجائے وہ صبح ہونے پر پڑھ لے ۱∞؎(ترمذی مرسلًا)
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهٖ فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مُرْسَلاً
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1268 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت عبدالعزیز ابن جریج سے فرماتے ہیں ہم نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کن سورتوں سے وتر پڑھتے تھے فرمایا پہلی رکعت میں"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"دوسری میں "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ"اور تیسری میں"قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ"اورفلق والناسسے ۱∞؎(ترمذی،ابوداؤد)
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولٰى ب(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَ عَلیٰ )وَفِي الثَّانِيَةِ(قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ)وَفَى الثَّالِثَةِ (قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدْ) وَالْمُعَوَّذَتَيْنِ وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1269 ، باب : وتر کا بیان
اور نسائی نے عبدالرحمان بن ابزی سے روایت کی
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰى
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1270 ، باب : وتر کا بیان
اور احمد نے ابی ابن کعب سے
وَرَوَاهُ الْأَحْمَدُ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1271 ، باب : وتر کا بیان
اور دارمی نے ابن عباس سے ا ور انہوں نے فلق و ناس کا ذکر نہ کیا ۱∞؎
والدَارمِيْ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ وَالْمُعَوَّذَّتَيْنِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1272 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت حسن ابن علی سے فرماتے ہیں ۱∞؎مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں الٰہی مجھے ان میں ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت دی اور عافیت والوں میں عافیت دے جن کا تو والی بنا ان میں میرا والی ہو ۲؎اپنے دیئے میں مجھے برکت دے اور قضاء قدر کی برائی سے مجھے بچا ۳؎کہ تو فیصلہ کرتا ہے تجھ پر فیصلہ نہیں کیا جاتا جس کا تو والی ہو و ہ ذلیل نہیں ہوتا اے رب تو برکت و بلندی والا ہے۴؎(ترمذی و ابوداؤد،نسائی ابن ماجہ ، دارمی)
وَعَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِيْ فِيْمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِيْ فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِيْ فِيْمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِيْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضٰى عَلَيْكَ أَنَّهٗ لَا يَزِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكَتْ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1273 ، باب : وتر کا بیان
- 1
- 2