- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : وتر کا بیان
باب : وتر کا بیان
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب وتر کا سلام پھیرتے تو فرماتے "سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْس"(ابوداؤد)اور نسائی نے زیادہ کیا کہ تین بار دراز کرکے ۱∞؎
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي الْوتر قَالَ:«سُبْحَانَكَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يُطِيلُ فِي آخِرِهنَّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1274 ، باب : وتر کا بیان
اور نسائی کی عبدالرحمن ابن ابزی کی روایت میں ہے جو انہوں نے اپنے والد سے کی فرمایا کہ جب سلام پھیرتے تو تین بار فرماتے "سبحان الملك القدوس"تیسری بار میں آواز کھینچتے ۱∞؎
وَفِي رِوَايَةٍ لِلنَّسَائِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰى عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» ثَلَاثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهٗ بِالثَّالِثَةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1275 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے آخری وتر میں فرماتے ۱∞؎الٰہی میں تیری ناراضی سے تیری رضا کی اور تیری سزا سے تیری عافیت کی پناہ مانگتا ہوں، تیری تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۲؎تیری حمد میں نہیں کر سکتا تو ایسا ہی ہے جیسی تو نے خود اپنی احمدکی ۳؎(ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وَتْرِهٖ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخْطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلیٰ نَفْسِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1276 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ان سے کہا گیا آپ کو امیر المؤمنین معاویہ میں میلا ن ہے کہ وہ تو ایک ہی رکعت وتر پڑھتے ہیں ۱∞؎تو آپ نے فرمایا ٹھیک کرتے ہیں وہ فقیہ عالم ہیں۲؎اور ایک روایت میں ہے کہ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں امیر معاویہ نے عشاء کے بعد ایک رکعت و تر پڑھی ا ن کے پاس حضرت ابن عباس کے غلام تھے انہیں وہ حضرت ابن عباس کے پاس گئے انہیں یہ خبر دی فرمایا انہیں چھوڑ دو وہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے ہیں ۳؎(بخاری)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لَهٗ: هَلْ لَكَ فِي أَمِير الْمُؤمنِينَ مُعَاوِيَة فَإِنَّهٗ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ إِنَّهٗ فَقِيهٌ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهٗ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتٰى ابْن عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَهٗ فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهٗ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1277 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں وتر لازم ہیں تو جو وتر نہ پڑھے وہ ہم سے نہیں ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ بُرَيْدَة قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوَتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1278 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو وتر سے سوجائے یا اسے بھول جائے تو جب یاد آئے یاجب بیدار ہو تو پڑھ لے ۱∞؎(ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهٗ فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ أَوْ إِذَا اسْتَيْقَظَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1279 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبر پہنچی کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر سے وتر کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ واجب ہیں تو حضرت عبد الله نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے تو وہ شخص آپ پر بار بار یہ سوال کرنے لگا اور عبد الله یہی کہتے رہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے ۱∞؎(مؤطا)
وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهٗ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الْوِتْرِ: أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الِمُسْلِمونَ. فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ وَعَبْدُ اللهِ يَقُولُ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الِمُسْلِمونَ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1280 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تین رکعت و تر پڑھتے تھے جن میں مفصل کی نو سورتیں پڑھتے تھے ہر رکعت میں تین تین سورتیں پڑھتے تھے جن کے آخر میںقل هو الله احدتھی ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِثَلَاثِ سُوَرٍ آخِرُهُنَّ: (قُلْ هُوَاللهُ أَحَدٌ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1281 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا آسمان ابرآلود تھا آپ نے صبح کا خوف کیا تو ایک رکعت سے وتر پڑھی ۱∞؎پھر بادل کھل گیا تو دیکھا کہ ابھی آپ پر رات ہے تو ایک رکعت سے شفعہ بنادیا۲؎پھر دو رکعتیں پڑھتے رہے جب صبح کا خوف ہوا تو ایک رکعت سے وتر پڑھی ۳؎(مالک)
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ وَالسَّمَاءُ مُغَيِّمَةٌ فَخَشِيَ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ انْكَشَفَ فَرَأٰى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا فَشَفَّعَ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَلَمَّا خَشِيَ الصُّبْحَ فَأَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ. رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1282 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے تو بیٹھے ہوئے پڑھتے رہتے جب آپ کی قرأت سے تیس چالیس آیتوں کی بقدر رہ جاتی تو کھڑے ہو کر قرأت کرتے پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهٖ قَدْرُ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ وَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذٰلِكَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1283 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱∞؎ترمذی،ابن ماجہ نے زیادہ کیا کہ ہلکی پڑھتے تھے بیٹھ کر۔
وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ ابْنُ مَاجَه: خَفِيْفَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1284 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت عائشہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک رکعت سے وتر پڑھتے تھے ۱∞؎پھر دو رکعتیں پڑھتے جن میں قرأت بیٹھے ہوئے کرتے جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے ۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1285 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ثوبان سے وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا یہ جاگنا مشقت اور بوجھ ہے جب تم میں سے کوئی وتر پڑھے تو دو رکعتیں پڑھ لے اگر رات میں اٹھ بیٹھا تو خیر ورنہ یہ رکعتیں اسے کافی ہیں ۱∞؎(دارمی)
وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّهَرَ جُهْدٌ وَثِقَلٌ فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَإِلَّا كَانَتَا لَهٗ » . رَوَاهُ الدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1286 ، باب : وتر کا بیان
روایت ہے حضرت ابوامامہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم یہ دورکعتیں وتر کے بعد بیٹھ کر پڑھتے تھے جن میں "اِذَا زُلْزِلَتِ"و "قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ" پڑھتے تھے ۱∞؎(احمد)
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيْهِمَا (إِذَا زُلْزِلَتْ) وَ (قُلْ يٰٓاَيُّهَا الْکٰفِرُوۡنَ)رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1287 ، باب : وتر کا بیان
- 1
- 2