- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : سفر کی نماز
باب : سفر کی نماز
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعتیں پڑھیں ۱∞؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَ صَلّٰى الْعَصْر بِذِي الحُلَيفَةَ رَكْعَتَيْنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1333 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہےحضرت حارثہ ابن وہب خزاعی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھائیں حالانکہ ہم اتنے زیادہ اور اتنے امن میں تھے جتنے کبھی نہ ہوئے تھے ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَكْثَرُ مَا كُنَّا قَطُّ وآمَنَهٗ بِمِنَاً رَكْعَتَيْنِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1334 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت عمر ابن خطاب سےعرض کی الله تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں کفار کے فتنے کا خوف ہوتو نمازقصر پڑھو اب لوگ امن میں ہوگئے ۲؎حضرت عمر نے فرمایا کہ جس سےتمہیں تعجب ہے مجھے بھی ہوا تھا تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تھا حضور نے فرمایا کہ یہ رب کا صدقہ ہے جو تم پر کیا لہذا اس کا صدقہ قبول کرو ۳؎(مسلم)
وَعَنْ يَعْلَی بْنِ أُميَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرِ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ تَعَالٰى (أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا)فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ. قَالَ عُمَرُ: عُجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبِلُوا صَدَقَتَهٗ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1335 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ گئے تو آپ مدینہ منورہ لوٹنے تک دو رکعتیں پڑھتے رہے ۱∞؎ان سے کہا گیا کیا تم مکہ میں کچھ دیر ٹھہرے بھی تھے فرمایا دس دن ٹھہرے تھے۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلٰى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتّٰى رَجَعْنَا إِلَى المَدِينَةِ قِيلَ لَهٗ : أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئاً قَالَ: «أَقَمْنَا بهَا عَشْرًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1336 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے سفر کیا تو انیس۱۹ دن ٹھہرے دو،دو رکعتیں پڑھتے رہے ۱∞؎حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ہم اپنے اور مکے کے درمیان انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھتے رہے جب اس سے زیادہ ٹھہرتے ہیں تو چار پڑھتے ہیں۲؎(بخاری)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: سَافَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَكَّةَ تِسْعَةَ عَشَرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ صَلَّينَا أَرْبَعاً. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1337 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت حفص ابن عاصم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا آپ نے ہمیں ظہر دو رکعتیں پڑھائیں پھر اپنی منزل میں آئے اور بیٹھے تو کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھا فرمایا یہ لوگ کیا کررہے ہیں میں نے کہا نفل پڑھ رہے ہیں۲؎فرمایا اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی نماز ہی پوری کرلیتا میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہا تو آپ سفر میں دو رکعتوں پر زیادتی نہ کرتے تھے اور ابوبکر،عمر،عثمان کو ایسے ہی دیکھا ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَصَلّٰى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَاءَ رِحْلَهٗ وَجَلَسَ فَرَأٰى نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ. قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي. صَحِبْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلیٰ رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَذَلِك(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1338 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب سفر میں چلتے ہوتے تو ظہر اورعصر جمع کرتے اور مغرب اورعشاءجمع فرماتے ۱∞؎(بخاری)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَين صَلَاۃِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ إِذَا كَانَ عَلیٰ ظَهْرِ سَيْرٍ وَيجمع بَينَ الْمَغربِ وَالْعِشَاءِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1339 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سفر میں فرائض کےسواء رات کی نماز سواری پر پڑھتے جدھربھی اس کا منہ ہوتا ۱∞؎(اشارہ سے پڑھتے تھے)وتر سواری پر پڑھتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلیٰ رَاحِلَتِهٖ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهٖ يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلیٰ رَاحِلَتِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1340 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز کا قصر اور اتمام سب کچھ کیا ۱∞؎(شرح سنہ)۲؎
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ ذٰلِكَ قَدْ فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَرَ الصَّلَاةَ وَأَتَمَّ. رَوَاهُ فِي شَرحِ السُّنَّةِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1341 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور آپ کے ساتھ فتح مکہ میں حاضرہوا تو آپ نے مکہ معظمہ میں اٹھارہ شب قیام کیا دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے فرمادیتے تھے اے شہر والو تم چار پڑھ لو ہم مسافر ہیں ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَصَلَّيْتُ مَعَهٗ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَهٗ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا وَالْمَغْرِبُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءٌ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ وَلَا يَنْقُصُ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1342 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہےحضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ظہر دو رکعت پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ حضر و سفر میں نماز پڑھی آپ کے ساتھ حضر میں ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور آپ کے ساتھ سفر میں ظہر دو رکعتیں پڑھیں اور اس کے بعد دو رکعتیں ۱∞؎اور عصر دو رکعتیں پڑھیں اورپھر اس کے بعد کچھ نہ پڑھا اور مغرب حضر و سفر میں برابر تین رکعتیں ہی پڑھیں نہ حضر میں کم کیں اور نہ سفر میں یہ دن کے وتر ہیں اور اس کے بعد دو رکعتیں ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَصَلَّيْتُ مَعَهٗ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَهٗ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا وَالْمَغْرِبُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءٌ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ وَلَا يَنْقُصُ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1343 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تھے جب کوچ سے پہلےسورج ڈھل جاتا تو ظہر اورعصر جمع کرلیتے ۱∞؎اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلےکوچ کردیتے تو ظہر پیچھے کرتے حتی کہ عصر کے لیے اترتے ۲؎یونہی مغرب میں جب کوچ سے پہلے سورج چھپ جاتا تو مغرب اورعشاء جمع کرلیتے اور اگر سورج چھپنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب میں دیر لگاتے حتی کہ عشاء کے لیئے اترتے پھر ان دونوں کو جمع فرمالیتے ۳؎(ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ: إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتّٰى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلَ ذٰلِكَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتّٰى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1344 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب سفرکرتے اورنفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی پر قبلہ رو ہوجاتے پھرتکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے اب آپ کو سواری جدھربھی متوجہ کرتی ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ وَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ بِنَاقَتِهٖ فَكَبَّرَ ثُمَّ صَلّٰى حَيْثُ وَجَّهَهٗ رِكَابُهٗ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1345 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے کسی کام میں بھیجا جب میں آیا تو آپ اپنی سواری پرمشرق کی طرف نماز پڑھ رہے تھے اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست کرتے تھے ۱∞؎(ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلیٰ رَاحِلَتِهٖ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَيَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1346 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھیں آپ کے بعد ابوبکر نے اور حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر نے حضرت عثمان نے اپنی شروع خلافت میں ۱∞؎پھر اس کے بعد حضرت عثمان نے چار پڑھیں ۲؎ابن عمر جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار پڑھتے اور جب اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے ۳؎(مسلم،بخاری)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنٰى رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهٗ وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهٖ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلّٰى بَعْدُ أَرْبَعًا فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلّٰى مَعَ الْإِمَامِ صَلّٰى أَرْبَعًا وَإِذَا صلاهَا وَحْدَهٗ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1347 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت عائشہ سےفرماتی ہیں کہ نماز دو دو رکعتیں فرض کی گئی تھی پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کی تو چار رکعتیں فرض ہوگئیں اور نماز سفر پہلے ہی فریضے پر رکھی گئی ۱∞؎زہری فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت عروہ سے پوچھا کہ حضرت عائشہ کا کیاخیال ہے کہ پوری کرتی ہیں۲؎فرمایا کہ حضرت عثمان کی تاویل کی طرح انہوں نے بھی تاویل کرلی۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا وَتُرِكَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَی الفَرِيضَةِ الْأُولٰى.قَالَ الزُّهْرِيُّ: قُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا بَالُ عَائِشَة تَتِمُّ؟ قَالَ: تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1348 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت ابن عباس سےفرماتے ہیں کہ الله نے تمہارے نبی کی زبان پر(صلے الله علیہ وسلم)نماز حضر میں چار رکعتیں،سفر میں دو رکعتیں اور خو ف میں ایک رکعت فرض کی ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ اللهُ الصَّلَاةَ عَلیٰ لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْف رَكْعَةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1349 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے انہی سے اورحضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےسفرکی نماز میں دو رکعتیں شروع کیں وہ دونوں پوری ہیں کوتاہ نہیں ۱∞؎اور وتر سفر میں سنت اسلام ہے ۲؎(ابن ماجہ)
وَعَنْهُ وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَا: سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1350 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت ابن عباس اس قدرمسافت میں نماز قصر کرتے تھے جو مکہ اور طائف،مکہ اورعسفان اور مکہ اور جدے کے درمیان ہے ۱∞؎امام مالک فرماتے ہیں کہ یہ مسافت چار برید ہے ۲؎(مؤطا)
وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهٗ أَنَّ ابْن عَبَّاسٍ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاةِ فِي مِثلِ مَا يكون بَين مَكَّةَ والطائِفِ وَفِي مِثلِ مَا يَكُونُ بَيْنَ مَكَّةَ وَعُسْفَانَ وَفٰى مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَجُدَّةَ قَالَ مَالِكٌ: وَذٰلِكَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1351 ، باب : سفر کی نماز
روایت ہے حضرت براءسے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا میں نے آپ کو نہ دیکھا کہ آپ نے سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کے پہلے کی دو رکعتیں چھوڑی ہوں ۱∞؎(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ الْبَرَاءِ قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَمَا رَأَيْتُهٗ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1352 ، باب : سفر کی نماز
- 1
- 2