- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ ایک شخص مسجد میں آیا ۱؎حالانکہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مسجد کے ایک کونہ میں جلوہ گر تھے اس نے نماز پڑھی ۲؎پھر آیا حضور کو سلام کیا اس سے نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایاوعلیک السلاملوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ۳؎وہ لوٹ گیا نماز پڑھی پھر آیا سلام کیا آپ نے فرمایاوعلیك السلاملوٹ جاؤ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی اس نے تیسری بار یا اس کے بھی بعد عرض کیا یارسول الله مجھے سکھا دیجئے ۴؎فرمایا جب تم نماز کی طرف اٹھو تو وضو پورا کرو پھر کعبے کو منہ کرو،پھرتکبیر کہو،پھر جس قدر قرآن آسان ہو پڑھ لو۵؎پھر رکوع کرو حتی کہ رکوع میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ ۶؎پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر سجدہ کرو حتی کہ سجدے میں مطمئن ہوجاؤ پھر اٹھو حتی کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔اور ایک روایت میں ہے پھر اٹھو حتی کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ پھر اپنی ساری نماز میں یہی کرو ۷؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلّٰى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ اِرْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَرَجَعَ فَصَلّٰى ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِّيَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِيَ قَائِمًا ثمَّ افْعَلْ ذٰلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 790 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نماز تکبیر سے اور قرأتاَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَسے شروع کرتے تھے ۱؎اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ اونچا رکھتے نہ نیچا لیکن اس کے درمیان ۲؎اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے حتی کہ سیدھے بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میںالتحیاتپڑھتے تھے۳؎او ر اپنا بایاں پاؤں بچھاتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا کرتے تھے ۴؎اور شیطان کی بیٹھک سے منع کرتے تھے ۵؎اور اس سے منع کرتے تھے کہ کوئی شخص اپنی کہنیاں درندے کی طرف بچھادے ۶؎اور اپنی نماز سلام سے ختم فرماتے تھے۔(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ بِ (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)وَكَانَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهٗ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلٰكِنْ بَيْنَ ذٰلِكَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتّٰى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتّٰى يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنٰى وَكَانَ يَنْهٰى عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهٰى أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 791 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے ۱؎انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں فرمایا کہ میں حضور انور کی نماز کا تم سب سے زیادہ حافظ ہوں میں نے حضورصلی الله علیہ و سلم کو دیکھا جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے مقابل کرتے ۲؎اورجب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں سے گھٹنے مضبوط پکڑتے ۳؎پھر اپنی پیٹھ جھکاتے پھر جب سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے حتی کہ ہر جوڑ اپنی جگہ لوٹ جاتا پھر جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ یوں رکھتے کہ نہ بچھاتے نہ سمیٹتے ۴؎اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ کرتے ۵؎پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں کھڑا کرتے پھر جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں آگے نکالتے او ر دوسرا پاؤں کھڑا کرتے اور کولہے پر بیٹھتے ۶؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيّ قَالَ: فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَحْفَظُكُمْ لِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهٗ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهٗ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ اسْتَوٰى حَتّٰى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهٗ فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلَا قَابِضِهِمَا وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ الْقِبْلَةَ فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلٰى رِجْلِهِ الْيُسْرٰى وَنَصَبَ الْيُمْنٰى وَإِذا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَنَصَبَ الْأُخْرٰى وَقَعَدَ عَلٰى مَقْعَدَتِهٖ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 792 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل اٹھاتے ۱؎اور جب رکوع کی تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی یونہی ہاتھ اٹھاتے اور کہتے"سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ"اور سجدے میں یہ نہ کرتے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذٰلِكَ وَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَايَفْعَلُ ذٰلِكَ فِي السُّجُودِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 793 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کہتے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب "سمع الله لمن حمدہ" کہتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے حضرت ابن عمر نے اس کام کو نبی صلی الله علیہ و سلم تک مرفوع کیا ۱؎(بخاری)
وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَرَفَعَ ذٰلِكَ ابْنُ عُمَرَ إِلٰى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 794 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت مالک ابن حویرث سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں اپنے کانوں کے مقابل کردیتے اورجب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے"سمع الله لمن حمدہ"ایسے ہی کرتے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ہاتھوں کو کانوں کی لو کے مقابل کرتے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ الرُّكُوعِ فَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِك. وَفِي رِوَايَةٍ: حَتّٰى يُحَاذِي بِهِمَا فُرُوْعُ أُذُنَيْهِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 795 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے انہیں سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو نماز پڑھتے دیکھا تو جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو نہ کھڑے ہوتے حتی کہ سیدھے بیٹھ جاتے ۱؎(بخاری)
وَعَنْهُ أَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلَاتِهٖ لَمْ يَنْهَضْ حَتّٰى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 796 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت وائل بن حجر سے ۱؎کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو دیکھاجب آپ نماز میں داخل ہوتے تو ہاتھ اٹھا ئےتکبیرکہی پھر اپنے ہاتھ کپڑے میں ڈھک لیے ۲؎پھر دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا۳؎پھر جب رکوع کرنا چاہا تو کپڑے سے ہاتھ نکالے پھر انہیں اٹھایا اورتکبیر کہی پھر رکوع کیا جب کہا"سمع الله لمن حمدہ"تو آپ نے ہاتھ اٹھائے ۴؎پھر جب سجدہ کیا تو اپنے دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا ۵؎(مسلم)
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍأَنَّهٗ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهٖ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنٰى عَلَی اليُسْرٰى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْب ثمَّ رَفَعَهُمَا ثمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 797 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎فرماتے ہیں لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ مرد نماز میں دایاں ہاتھ اپنی بائیں کلائی پر رکھے۔۲؎(بخاری)
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنٰى عَلیٰ ذِرَاعِهِ الْيُسْرٰى فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 798 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم جب نماز کے لیے اٹھتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتےپھر جب رکوع سے پیٹھ اٹھاتے تو کہتے"سمع الله لمن حمدہ"پھر کھڑے کھڑے کہتے"ربنالك الحمد" ۱؎پھر جب جھکتے تو تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے پھر جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے پھر ساری نماز میں یونہی کرتے حتی کہ اسے پوری کرلیتے اور دو رکعتوں میں بیٹھنے کے بعد جب اٹھتے تو بھی تکبیر کہتے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهٗ مِنَ الرَّكْعَةِ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ثُمَّ يُكَبِّرُ حِيْنَ يَهْوِي ثُمَّ یُکَبِّرُ حِیْنَ یَرْفَعُ رَاْسَہُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ثمَّ يُكَبِّرُ حِين يَرْفَعُ رَأْسَهٗ ثُمَّ يَفْعَلُ ذٰلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتّٰى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 799 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ و سلم نے بہترین نماز لمبا قیام ہے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 800 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے آپ نے حضور کے دس صحابہ کی جماعت میں فرمایا کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی نماز کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۱؎وہ بولے پیش کرو فرمایا کہ نبی کریم صلی الله علیہ و سلم نماز کو کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتے ۲؎پھر تکبیرکہتے پھر قرأت کرتے پھرتکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتےپھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھ دیتے پھر کمر سیدھی کرتے تو نہ سر اٹھاتے نہ جھکاتے پھر اپنا سر اٹھاتے تو کہتے"سمع الله لمن حمدہ" ۳؎پھر اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں اپنے کندھوں کے مقابل کردیتے سیدھے ہوتے ہوئے پھر کہتے اللهاکبرپھر سجدہ کرتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے ۴؎تو اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے اور پاؤں کی انگلیاں موڑ دیتے ۵؎پھر سر اٹھاتے اور اپنا الٹا پاؤں بچھاتے پھر اس پر بیٹھ جاتے پھر سیدھے ہوتے حتی کہ ہر ہڈی سیدھے ہونے کی حالت میں اپنی جگہ لوٹ جاتی پھرسجدہ کرتے تو اللهاکبرکہتے اور اٹھتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑتے اس پر بیٹھ جاتے پھر سیدھے ہوتے حتی کہ ہڈی اپنی جگہ لوٹ جاتی ۶؎پھر کھڑے ہوتے تو دوسری رکعت میں یونہی کرتے پھر جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور ہا تھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے مقابل کردیتے جیسے کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی تھی پھر اپنی باقی نماز میں یونہی کرتے حتی کہ جب وہ سجدہ ہوتا جس میں سلام ہے تو اپنا بایاں پاؤں باہر نکال دیتے اور بائیں کولہے پر بیٹھتے پھر سلام پھیر دیتے وہ بولے تم نے سچ کہا ایسے ہی نماز پڑھتے تھے۔(ابوداؤد،دارمی) ۷؎اور ترمذی اور ابن ماجہ نے اس کی معنی کی روایت کی ترمذی کہتے ہیں یہ حسن صحیح ہے ۸؎اور ابوداؤد کی ابو حمید والی حدیث کی دوسری روایت میں ہے ۹؎کہ پھر رکوع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو کمان کے چلّے کی طرح ٹیڑھا کرتے اور انہیں پہلوؤں سے دور رکھتے ۱۰؎فرمایا کہ سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پر رکھتے اور اپنے ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھتے اور اپنی ہتھیلیاں کندھوں کے مقابل رکھتے ۱۱؎اپنی رانوں کے درمیان کشادگی کرتے کہ اپنا پیٹ رانوں سے کسی حصے سے نہ لگاتے حتی کہ فارغ ہوجاتے پھر بیٹھتے تو اپنا بایاں بچھاتے اور اپنے دایاں پاؤں کا سینہ قبلہ کی طرف کردیتے ۱۲؎اور اپنا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے ۱۳؎اور ابوداؤ دکی دوسری روایت میں ہے کہ جب دو رکعتوں پر بیٹھتے توبائیں پاؤں پیٹ پر بیٹھتے اور دائیں کو کھڑا کردیتے اور جب چوتھی میں ہوتے تو اپنے سرین زمین سے لگاتے اور اپنے دونوں پاؤں ایک طرف نکال دیتے ۱۴؎
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيّ قَالَ فِي عَشَرَةِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَاعْرِضْ. قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يُصْبِي رَأْسَهٗ وَلَا يُقَنِّعُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهٗ فَيَقُولُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُ أَكْبَرُ» ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ سَاجِدًا فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهٗ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرٰى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتّٰى يَرْجِعَ كُلُّ عَظمٍ إِلٰى مَوْضِعِهٖ مُعْتَدِلًا ثُمَّ يَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: «اللهُ أَكْبَرُ» وَيَرْفَعُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرٰى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ثُمَّ يَعْتَدِلُ حَتّٰى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلٰى مَوْضِعِهٖ ثُمَّ يَنْهَضُ ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذٰلِكَ ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتّٰى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ ثُمَّ يَصْنَعُ ذٰلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهٖ حَتّٰى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلیٰ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ثُمَّ سَلَّمَ. قَالُوا: صَدَقْتَ هٰكَذَا كَانَ يُصَلِّي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والدَارمِيْ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ وَابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حُمَيْدٍ: ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلیٰ رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهٗ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ وَقَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهٗ وَجَبْهَتَهُ الْأَرْضَ وَنَحّٰى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهٗ عَلیٰ شَيْءٍ مِنْ فَخِذَيْهِ حَتّٰى فَرَغَ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرٰى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنٰى عَلیٰ قِبْلَتِهٖ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُمْنٰى وَكَفَّهُ الْيُسْرٰى عَلیٰ رُكْبَتِهِ الْيُسْرٰى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهٖ يَعْنِي السَّبَّابَةَ. وَفِي أُخْرٰى لَهٗ : وَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلیٰ بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرٰى وَنَصَبَ الْيُمْنٰى وَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضٰى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى الَى الأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 801 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے کہ انہوں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کو کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتی کہ ہاتھ تو کندھوں کے مقابل ہوگئے اور اپنے انگوٹھوں کو کانوں کے مقابل کردیا پھرتکبیر کہی۔ابوداؤد اور اس کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے انگوٹھے کانوں کی گدیوں تک اٹھاتے ۱؎
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ: أَنَّهٗ أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتّٰى كَانَتَا بِحِيَالِ مَنْكِبَيْهِ وحَاذٰىْ بِإِبْهَامَيْهِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ : يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ إِلٰى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 802 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حصرت قبیصہ ابن ہلب سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہماری امامت کرتے تھے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں سے پکڑتے تھے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ قُبَيْصَةَ بْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهٗ بِيَمِينِهٖ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 803 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎فرماتے ہیں ایک شخص آیا مسجد میں نماز پڑھی ۲؎پھر حاضر خدمت ہوا تو نبی صلی الله علیہ و سلم کو سلام عرض کیا تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نماز لوٹاؤ۳؎تم نے نماز نہیں پڑھی وہ بولا یارسول الله مجھے سکھا دوکہ نماز کیسے پڑھوں فرمایا جب تم قبلہ کو منہ کرو تو تکبیر کہو ۴؎پھر سورۂ فاتحہ اور جو پڑھن الله چاہے وہ پڑھ لو۵؎پھر جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنے رکوع کو مضبوطی سے کرو ۶؎اور اپنی پشت درازکرو جب اپنے سر کو اٹھاؤ تو اپنی پیٹھ سیدھی کرو حتی کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں تک لوٹ جائیں ۷؎پھر جب سجدہ کرو تو سجدہ مضبوطی سے کرو۸؎جب اٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو ۹؎پھر رکوع اور سجدہ میں یونہی کرو حتی کہ مطمئن ہوجاؤ یہ مصابیح کے لفظ ہیں اور ابو داؤد نے تھوڑے فرق سے روایت کیا اور ترمذی و نسائی نے اس کے معنی روایت کیے۔ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو یونہی وضو کرو جیسے تمہیں الله نے اس کا حکم دیا پھر کلمۂ شہادت پڑھو ۱۰؎پھرتکبیر کہو پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھ لوورنہ الله کی حمداس کی تکبیر اس کی تہلیل کرو ۱۱؎پھر رکوع کرو۔
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَصَلّٰى فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَقَالَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ أُصَلِّي قَالَ: «إِذَا تَوَجَّهَتَ إِلَى القِبْلَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَقْرَأَ فَإِذَا رَكَعَتْ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلیٰ رُكْبَتَيْكَ وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتّٰى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلٰى مَفَاصِلِهَا فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنِ السُّجُودَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلیٰ فَخِذِكَ الْيُسْرٰى ثُمَّ اصْنَعْ ذٰلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ. هٰذَا لَفَظُ» الْمَصَابِيحِ . وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيْ قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللهُ بِهٖ ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلِّلْهُ ثمَّ اِرْكَعْ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 804 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت فضل ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے نماز دو،دو رکعتیں ہے ۱؎ہر دو رکعتوں میںالتحیاتہےعجز ہے نیاز مندی ہے اور اظہار غریبی ۲؎پھر ہاتھ اٹھاؤ یعنی اپنے رب کی طرف پھیلاؤ ۳؎جن کی ہتھیلیاں تمہارے چہرے کی طرف ہوں۴؎اور کہو اے مولا اے مولا اور یہ نہ کرے تو وہ ایسا ایسا ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ وہ ناقص ہے ۵؎ترمذی۔
وَعَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الصَّلَاةُ مَثْنٰى مَثْنٰى تَشَهُّدٌ فِي كَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَخَشُّعٌ وَتَضَرُّعٌ وَتَمَسْكُنٌ ثُمَّ تُقْنِعُ يَدَيْكَ يَقُولُ تَرْفَعُهَا إِلٰى رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ وَتَقُولُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَهُوَ كَذَا وَكَذَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَهُوَ خِدَاجٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 805 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت سعید بن حارث بن معلے سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم کو ابوسعید خدری نے نماز پڑھائی تو جب سجدہ سے سر اٹھایا اور جب سجدہ کیا اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تو اونچی آواز سے تکبیرکہی ۲؎اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو یونہی دیکھا۔ (بخاری)
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلّٰى قَالَ: صَلّٰى لَنَا أَبُوسَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهٗ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَالَ: هٰكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 806 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بزرگ کے پیچھے مکہ مکرمہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس تکبیریں کہیں ۱؎میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ یہ بیوقوف ہیں تو فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے یہ نبی صلی الله علیہ و سلم کی سنت ہے ۲؎(بخاری)
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَقُلْتُ لِاِبْن عَبَّاسٍ : إِنَّهٗ أَحْمَقُ فَقَالَ: ثَكَلَتْكَ أُمُّكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 807 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت علی ابن حسین سے(ارسالًا) ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نماز میں جب جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے حضور کی یہی نماز رہی حتی کہ الله تعالٰی سے مل گئے ۲؎(مالک)
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ مُرْسَلًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاةِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلَاتُهٗ حَتّٰى لَقِيَ اللهَ تَعَالٰى. رَوَاهُ مَالِكٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 808 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
روایت ہے حضرت علقمہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم سے حضرت ابن مسعود نے فرمایا کیا میں تمہارے سامنے حضور کی نماز نہ پڑھوں تو نماز پڑھی تو اپنے ہاتھ صرف ایک بار ہی یعنی شروع کی تکبیر کے ساتھ اٹھائے ۲؎(ترمذی،نسائی ابوداؤد)ابوداؤدکہتے ہیں کہ یہ حدیث اس معنی پرصحیح نہیں ہے۔
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً مَعَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ هُوَ بِصَحِيح ٍ عَلیٰ هٰذَا الْمَعْنى
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 809 ، باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- 1
- 2