باب : عیدین کی نماز

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عید بقرعید کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے ۱∞؎تو پہلی چیز جس سے شروع فرماتے نماز ہوتی پھر لوگ فارغ ہوتے تو لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے ۲؎انہیں نصیحت اور وصیت فرماتے احکام دیتے اور لشکر چھانٹنے کا ارادہ ہوتا تو وہاں ہی چھانٹ لیتے یا کچھ حکم کرنا چاہتے تو اس کا حکم کرتے پھر واپس ہوتے ۳؎(مسلم ،بخاری)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى الَى المُصَلِّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهٖ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلیٰ صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهٗ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهٖ ثمَّ يَنْصَرِفَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1426 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سےفرماتےہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک دو عیدوں سے زیادہ پڑھیں بغیر اذان کے اور بغیرتکبیر کے ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَة. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1427 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور جناب ابوبکروعمرعیدین کی نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1428 ، باب : عیدین کی نماز

حضرت ابن عباس سےپوچھا گیا کہ کیا آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوئے فرمایا ہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے گئے تو نماز پڑھی پھرخطبہ دیا اذان اورتکبیر کا آپ نے ذکر نہ فرمایا پھر عورتوں میں تشریف لے گئے تو انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقے کا حکم دیا ۱∞؎میں نےعورتوں کو دیکھا کہ اپنے کانوں اور گلے کی طرف ہاتھ بڑھاتیں اور بلال کی طرف زیور پھینک دیتیں پھر آپ اور بلال اپنے گھر واپس ہوتے ۲؎(مسلم،بخاری)

وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَشَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ؟ قَالَ: نَعَمْ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلّٰى ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَرَأَيْتُهُنَّ يُهْوِينَ إِلٰى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ يَدْفَعْنَ إِلٰى بِلَالٍ ثُمَّ ارْتَفَعَ هُوَ وَبِلَالٌ إِلٰى بَيْتِهٖ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1429 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فطرکے دن دو رکعتیں پڑھیں نہ ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی نہ ان کے بعد ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى يَوْمَ الْفِطْرِ رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1430 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ ہم کو حکم دیا گیا تھا کہ ہم عیدوں میں حائضہ اور پردے والی عورتوں کو(عیدگاہ)لےجائیں۲؎تاکہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور دعاؤں میں حاضرہوں۳؎حیض والیاں عیدگاہ سے الگ رہیں۴؎ایک عورت نےعرض کیا یارسول الله ہم میں سےبعض کےپاس چادرنہیں ہے فرمایا اس کی سہیلی اسے اپنی چادر میں سے اوڑھالے ۵؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ وَذَوَاتَ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الِمُسْلِمينَ وَدَعْوَتَهُمْ وَتَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مُصَلَّاهُنَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: “لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1431 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ان کے پاس منٰی کے زمانہ میں آئے جب کہ ان کے پاس دوبچیاں ۱∞؎دف بجارہی تھیں اورایک روایت میں ہے کہ وہ گیت گارہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے بنائے تھے۲؎اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے تھے حضرت صدیق نے ان بچیوں کو جھڑکا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انورکھولا فرمایا اے ابوبکر انہیں چھوڑدو کیونکہ یہ دن عید کے دن ہیں۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ اے ابوبکر ہرقوم کی عیدہوتی ہے یہ ہماری عیدہے۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَفِي رِوَايَةٍ: تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهٖ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهٖ فَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَفِي رِوَايَةٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيْدًا وَهٰذَا عِيْدُنَا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1432 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت انس سے فرماتےہیں کہ رسول الله عیدا لفطر کے دن عیدگاہ نہ جاتےحتی کہ کچھ چھوہارے کھالیتے طاق کھاتے تھے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغْدُو يَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰى يَأْكُلَ تَمَرَاتٍ وَيَأْكُلَهُنَّ وِتْرًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1433 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہےحضرت جابرسے فرماتےہیں کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی صلی الله علیہ وسلم عیدگاہ کے رستے میں اختلاف کرتے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيق. رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1434 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بقرعید کے دن ہمیں خطبہ سنایا تو فرمایا کہ آج اس دن میں جس چیز سے ہم شروع کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں پھر لوٹیں تو قربانی کریں ۱∞؎جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا،اور جس نے ہماری نماز سے پہلے ذبح کرلیا وہ گوشت کی بکری ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے ذبح کرلیا وہ قربانی نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ الْبَرَاءِ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: “إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهٖ فِي يَوْمِنَا هٰذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ شَاةُ لَحْمٍ عَجَّلَهٗ لِأَهْلِهٖ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1435 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت جندب ابن عبد الله بجلی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو نماز سے پہلے ذبح کرے وہ اس کی جگہ دوسری ذبح کرے اورجس نے ہمارے نماز پڑھنے تک ذبح نہ کیا ہو وہ الله کے نام پر ذبح کرے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيُّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرٰى وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ حَتّٰى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلیٰ اسْمِ اللهِ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1436 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت براءسے فرماتےہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو نماز سے پہلے ذبح کرے وہ اپنے لیے ذبح کرتا ہے جو نماز کے بعد ذبح کرے اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کا طریقہ پالیا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يَذْبَحُ لِنَفْسِهٖ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهٗ وَأَصَابَ سُنَّةَ الِمُسْلِمين”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1437 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہےحضرت ابن عمرسے فرماتےہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عیدگاہ میں ذبح اورنحر فرماتے تھے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلِّى . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1438 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہےحضرت انس سےفرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مدینے میں تشریف لائے ا ور اہل مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلتے تھے فرمایا یہ دو دن کیسے ہیں وہ بولے کہ ہم ان دنوں میں زمانہ جاہلیت میں کھیلتے تھے ۱∞؎تب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله نے تمہیں ان کے عوض ان سے دو اچھے دن دیئے ہیں بقرعید اورعیدالفطر۲؎(ابوداؤد)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَهُمْ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فَقَالَ: “مَا هَذَانِ الْيَوْمَانِ؟” قَالُوا: كُنَّا نَلْعَبُ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَبْدَلَكُمُ اللهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا: يَوْمَ الْأَضْحٰى وَيَوْمَ الْفِطْرِ".رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1439 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نہ جاتے تھے حتی کہ کچھ کھالیتے اور بقرعید کے دن نہ کھاتے حتی کہ نماز پڑھ لیتے ۱∞؎(ترمذی، ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰى يَطْعَمَ وَلَا يَطْعَمُ يَوْمَ الْأَضْحٰى حَتّٰى يُصَلِّيَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه والدَارمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1440 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت کثیر ابن عبد الله سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روای ۱∞؎کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے نماز عیدین کی پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں کہیں اور دوسری میں قرأت سے پہلے پانچ ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ، دارمی) ۳؎

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ فِي الْأُولٰى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَارمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1441 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے(ا رسالًا) ۱∞؎کہ حضورصلی الله علیہ وسلم اورحضرات ابوبکروعمرنے عیدوں اور استسقاء میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں اورخطبے سے پہلےنماز پڑھی اور قرأت اونچی کی ۲؎(شافعی)

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَبَّرُوا فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ سَبْعًا وَخَمْسًا وَصَلَّوْا قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَجَهَرُوْا بِالْقِرَاءَةِ. رَوَاهُ الشَّافِعِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1442 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہےحضرت سعید ابن العاص سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت ابوموسیٰ رضی الله عنہ اور حذیفہ رضی الله عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نمازعیدوبقر عیدمیں تکبیریں کیسے کہتے تھے تو ابوموسیٰ نے فرمایا کہ آپ نمازجنازہ کی طرح چارتکبیریں کہتے تھے۲؎حضرت حذیفہ نے کہا یہ سچے ہیں۔(ابوداؤد)

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مُوسٰى وَحُذَيْفَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحٰى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسٰى: كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُٗعَلَی الْجَنَازَۃِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: صَدَقَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1443 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت براءسے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں عید کے دن کمان حاضر کی گئی آپ نے اس پر خطبہ پڑھا ۱∞؎(ابوداؤد)

وَعَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُووِلَ يَوْمَ الْعِيدِ قَوْسًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1444 ، باب : عیدین کی نماز

روایت ہے حضرت عطا سے(ارسالًا)کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو اپنی لاٹھی پر ٹیک لگاتے تھے ۱∞؎(شافعی)

وَعَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَطَبَ يَعْتَمِدُ عَلیٰ عنزته اعْتِمَادًا. رَوَاهُ الشَّافِعِي

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1445 ، باب : عیدین کی نماز