- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- باب : عیدین کی نماز
باب : عیدین کی نماز
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا تو آپ نے خطبہ سے پہلے بغیراذان وتکبیرنماز شروع کی جب نماز پوری کرلی تو حضرت بلال پر ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے ۱∞؎اور الله کی حمدوثناءکی لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں رب کی اطاعت پر رغبت دی اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے آپ کے ساتھ بلال تھے۲؎انہیں الله سے ڈرنے کا حکم دیا اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔(نسائی)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَّكِئًا عَلیٰ بِلَالٍ فَحَمَدَ اللهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلیٰ طَاعَۃٍ وَمَضَى الَى النِّسَاءِ وَمَعَهٗ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللهِ وَ وَعَظَ هُنَّ وَ ذَكَرَهُنَّ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1446 ، باب : عیدین کی نماز
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عید کے دن جب ایک راستے سے تشریف لے جاتے تو دوسرے راستے سے لوٹتے ۱∞؎(ترمذی،دارمی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ رَجَعَ فِي غَيْرِهٖ.رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدَارمِيْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1447 ، باب : عیدین کی نماز
روایت ہے انہی سے ایک بارعید کے دن بارش ہوگئی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں نمازعیدمسجدمیں پڑھائی ۱∞؎(ابو داؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْہُ أَنَّهٗ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَصَلّٰى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1448 ، باب : عیدین کی نماز
روایت ہے حضرت ابوحویرث سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمرو ابن حزم کو لکھا ۱∞؎جب کہ وہ نجران میں تھے کہ بقرعید جلدی پڑھو اورعیدا لفطر دیر سے اور لوگوں کو وعظ کرو ۲؎(شافعی)۳؎
وَعَنْ أبي الْحُوَيْرِث أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلٰى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ بِنَجْرَانَ عَجِّلِ الْأَضْحٰى وَأَخِّرِ الْفِطْرَ وَذَكِّرِ النَّاسَ. رَوَاهُ الشَّافِعِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1449 ، باب : عیدین کی نماز
روایت ہے حضرت عمیر ابن انس سے ۱∞؎وہ اپنے چچاؤں سے راوی جو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ ہیں کہ ایک قافلہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا انہوں نےگواہی دی کہ انہوں نےکل چاند د یکھ لیا ہے حضور نے حکم دیا کہ روزہ افطارکرلیں اورکل صبح عیدگاہ چلیں۲؎(ابوداؤد،نسائی)
وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهٗ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بالْأَمْسِ فَأَمَرَهُمْ أَن يفطروا وَإِذا أَصْبحُوا أَن يَغْدُو إِلٰى مصلاهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِي
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1450 ، باب : عیدین کی نماز
روایت ہے ابن جریج سے ۱∞؎فرماتے ہیں مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس اور جابر ابن عبد الله سے خبردی ان دونوں نے فرمایا کہ عید بقر کے دن اذان نہ کہی جاتی تھی پھر کچھ عرصہ بعد میں نےعطاءسے اس بار ے میں پوچھا۲؎تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے جابر ابن عبد الله نے خبردی کہ عید کے دن امام کے نکلتے وقت اور نکلنے کے بعد نہ تونماز کی اذان ہے نہ تکبیر،نہ عام اعلان نہ کچھ اور چیزیعنی اس دن نداءہےنہ تکبیر ۳؎(مسلم)
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ ابْن عَبَّاسٍ وَجَابِر ابْن عَبْدِ اللهِ قَالَا: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحٰى ثُمَّ سَأَلْتُهٗ يَعْنِي عَطَاءً بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذٰلِكَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بعد مَا يَخْرُجُ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1451 ، باب : عیدین کی نماز
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عید کے دن تشریف لے جاتے تو نماز سے ابتداء کرتے جب نماز پڑھ چکتے تو لوگوں پرمتوجہ ہوتے لوگ اپنے مقام پر بیٹھے ہوتے اگر سرکار کو لشکر بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں سے ذکر فرمادیتے یا آپ کو اس کے سوا کوئی اور ضرورت ہوتی تو اس کا حکم فرمادیتے ۱∞؎اور فرماتے تھے خیرات کرو خیرات کرو خیرات کرو زیادہ خیرات کرنے والی عورتیں ہوتی تھیں ۲؎پھر آپ واپس ہوتے معاملہ یوں رہا حتی کہ مروان ابن حکم کا زمانہ آیا۳؎تو میں مروان کی کمر میں ہاتھ ڈالے نکلا حتی کہ ہم عیدگاہ پہنچے تو دیکھا کہ کثیر ابن صلت نے کچی اینٹ و گارے کا منبر بنایا ہے۴؎اورمروان مجھ سے اپنا ہاتھ کھینچنے لگا شاید مجھے منبر کی طرف کھینچتا تھا اور اسے میں نماز کی طرف کھینچتا تھا جب میں نے اس کی یہ حرکت دیکھی تو میں بولا کہ نماز سے ابتداءکرنا کہاں گیا وہ بولا نہیں اے ابوسعید جوتمہارے علم میں ہے وہ اب چھوڑ دی گئی ۵؎میں نے کہا ہرگز نہیں اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے جو چیز میرے علم میں ہے تم اس سے بہتر کوئی چیز نہیں لاسکتے ۶؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحٰى ويَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلّٰى صَلَاتَهٗ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ بِبَعْثِ ذَكَرَهٗ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهٗ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذٰلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ: “تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا” . وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفْ فَلمْ يَزَلْ كَذَلِك حَتّٰى كَانَ مَرْوَانُ ابْن الْحَكَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتّٰى أَتَيْنَا الْمُصَلّٰى فَإِذَا كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنٰى مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهٗ كَأَنَّهٗ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهٗ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتَ ذٰلِكَ مِنْهُ قُلْتُ: أَيْنَ الِابْتِدَاءُ بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِكَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا تَأْتُوْنَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثُلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1452 ، باب : عیدین کی نماز
- 1
- 2