- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا پی جائے تو اسے سات بار دھوؤ (مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی جب اس میں کتا چاٹ جائے تو اسے ساتھ بار دھوئے پہلی بار مٹی سے ۱؎
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِيْ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "طَهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيْهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهٗ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 490 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں کھڑے ہوکر پیشاب کردیااسے لوگوں نے پکڑلیا اوران سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۱؎اور اس کے پیشاب پر پانی کا ڈول بہادو ۲؎کیونکہ تم آسانی کرنے والے بھیجے گئے مشکل میں ڈالنے والے نہیں بھیجے گئے ۳؎(بخاری )
وَعَنْهُ قَالَ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِفَتَنَاوَلَهُ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دَعُوهُ وَهَرِيْقُوْا عَلٰى بَوْلِهٖ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍفَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِيْنَ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِيْنَ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 491 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے لگا تو حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے فرمایا ٹھہرٹھہر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے نہ روکو چھوڑ دو ۱؎لوگوں نے چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کرلیا پھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلاکر فرمایا کہ یہ مسجدیں پیشاب اور گندگی کے لیئے نہیں یہ توصرف الله کے ذکرنمازاور تلاوت قرآن کے لیئے ہیں یاجیسا حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۲؎فرماتے ہیں کہ قوم کے ایک آدمی کو حکم دیا وہ پانی کا ڈول لایا جسے اس پر بہادیا۔(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجدِ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُزْرِمُوْهُ دَعُوْهُ" فترَكُوْهُ حَتّٰى بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ فَقَالَ لَهٗ: "إِنَّ هٰذِهِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَالقَذَرِ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَالصَّلَاةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ" أَوْ كَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،قَالَ: وَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَسَئَلَهٗ عَلَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 492 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول الله! فرمایئے تو ہم میں سے جب کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو اسے مل دے پھر پانی سے دھو دے پھر اس میں نماز پڑھ لے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِيْ بَكْرٍ قَالَتْ: سَأَلَتْ امْرَأَةٌ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ إحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذا أَصَابَ ثَوْبَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ فَلْتَقْرُصْهُ،ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِمَاءٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 493 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے منی کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے فرمانے لگیں کہ میں اسے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی پس آپ نماز کو تشریف لے جاتے تھے حالانکہ دھونے کا اثر آپ کے کپڑے میں ہوتا۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيْبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْسِلُهٗ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَثَرُ الْغَسْلِ فِيْ ثَوْبِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 494 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت اسود ۱؎اورہمام سے۲؎وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتی ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی مل دیتی تھی(مسلم)
وَعَنِ الأَسْوَدِ وَهَمَّامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 495 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
اور علقمہ اسود کی ایک روایت میں حضرت عائشہ سے اسی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ اسی میں نماز پڑھ لیتے٣؎
وَبِرِوَايَةِ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهٗ وَفِيْهِ: ثمَّ يُصَلِّيْ فِيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 496 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے ام قیس بنت محصن سے ۱؎کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو کھانا نہ کھاتا تھا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں حضور نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیاحضور نے پانی منگایا اس پر پانی بہادیا خوب نہ دھویا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ: أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صغِيْرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ حِجْرِهٖ فَبَالَ عَلٰى ثَوْبِهٖ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهٗ وَلَمْ يَغْسِلْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 497 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب کھال پکالی جائے تو پاک ہوجاتی ہے ۱؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 498 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ کی لونڈی کو بکری صدقہ دی گئی وہ مرگئی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر گزرے تو فرمایا کہ تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتارلی تم اسے پکالیتے اور نفع اٹھاتے لوگوں نے عرض کیا کہ وہ تو مردارہے فرمایا کہ اس کا کھانا صرف حرام ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: تُصُدِّقَ عَلٰى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ، فَمَاتَتْ، فَمَرَّ بِهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ فَانْتَفَعْتُمْ بِهٖ؟ " فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: "إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 499 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے سودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سے فرماتی ہیں کہ ہماری بکری مرگئی ہم نے اس کا چمڑا پکالیا پھرہم اس میں نبیذ بناتے رہے حتی کہ وہ پرانی مشک بن گئی ۱؎(بخاری)
وَعَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَاتَتْ لَنَا شَاةٌ فَدَبَغْنَا مَسْكَهَا،ثُمَّ مَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِيْهِ حَتّٰى صَارَ شَنًّا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 500 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت لبابہ بنت حارث سے ۱؎فرماتی ہیں کہ حضرت حسین ابن علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے کہ آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۲؎میں نے عرض کیا کہ اور کپڑا پہن لیجئے اپنا تہبند مجھے دے دیجئے کہ دھوؤں فرمایا لڑکی کے پیشاب کو خوب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب سے پانی بہادیا جاتا ہے۳؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)
عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فِيْ حِجْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَال عَلٰى ثَوْبِهٖ، فَقُلْتُ: الْبَسْ ثَوْبًا، وَأَعْطِنِيْ إِزَارَكَ حَتّٰى أَغْسِلَهٗ، قَالَ: "إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الأُنْثٰى، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 501 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
اور ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ابی سمح سے ہے فرماتے ہیں کہ لڑکی کے پیشاب سے دھویاجاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹا دیا جاتا ہے٤؎
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِأَبِيْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنْ أَبِي السَّمْحِ قَالَ: "يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِيَةِ وَيُرَشُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 502 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے سے پلیدی کو روندے تو مٹی اس کے لیئے پاکی ہے ۱؎(ابوداؤد) اورابن ماجہ کی روایت میں اس کے معنی ہیں۔
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الأَذٰى فَإِنَّ التُّرَابَ لَهٗ طَهُوْرٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ. وَلِابْنِ مَاجَهْ مَعْنَاهُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 503 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ ان سے کسی عورت نے کہا میرا دامن لمبا ہے اور میں گندی جگہ میں چلتی ہوں آپ بولیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اسے بعد والی زمین پاک کردے گی ۱؎(مالک،احمد،ترمذی،ابوداؤد،دارمی)ان دونوں نے کہا کہ وہ عورت ابراہیم ابن عبدالرحمان بن عوف کی ام ولد تھیں ۲؎
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ لَهَا امْرَأَةٌ: إِنِّيْ امْرَأةٌ أُطِيْلُ ذَيْلِيْ، وَأَمْشِيْ فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُطَهِّرُهٗ مَا بَعْدَهٗ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَا: الْمَرْأَةُ أُمُّ وَلَدٍ لإِبْرَاهِيْمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 504 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت مقدام ابن معدیکرب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوارہونے سے منع فرمایا ۲؎(ابو داؤد،نسائی)
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيْ كَرِبَ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 505 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت ابی الملیح ابن اسامہ سے وہ اپنے والد سے ۱؎وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ حضور نے درندوں کی کھالوں سے منع فرمایا ۲؎(احمد،ابوداؤد،نسائی)اور ترمذی اور دارمی نے یہ بڑھایا یہ کہ بچھایا جائے۔
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيْحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهٰى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ والدَّارِمِيُّ: أَنْ تُفْتَرَشَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 506 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت ابی الملیح سے کہ انہوں نے درندوں کے چمڑوں کی قیمت کوناپسندجانا ۱؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيْحِ: أَنَّهُ كَرِهَ ثَمَنَ جُلُوْدِ السِّبَاعِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 507 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
اور روایت ہے عبداللہ ابن عکیم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم نہ مردار کی کھال سے نفع اٹھاؤ نہ پٹھے سے۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنْ لَا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 508 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھالوں سے نفع حاصل کرنے کا حکم دیا جب پکالی جائیں ۱؎(مالک،ابوداؤد)
وَعَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 509 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- 1
- 2