باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب

پاکی کی کتاب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1

روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ حضور پر گزرے جو اپنی مری بکری کو گدھے کی طرح کھینچ رہے تھے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی وہ بولے کہ یہ تو مردار ہے ۱؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور ببول کے پتے پاک کردیتے ہیں ۲؎(احمدوابوداؤد)

وَعَنْ مَيْمُوْنَةَ قَالَتْ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ، يَجُرُّوْنَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا" قَالُوْا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 510 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب

روایت ہے حضرت سلمہ ابن محبق سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبو ک میں ۲؎ایک کے گھر تشریف لے گئے وہاں مشک لٹکی ہوئی تھی آپ نے پانی مانگا وہ بولے یارسول الله یہ مردار کی کھال ہے فرمایا اس کا پکالینااس کی پاکی ہے۳؎(احمدوابوداود)

وَعَنْ سَلمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فِيْ غَزْوَة تبوكَ عَلٰى بَيْتٍ، فَإِذَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَسَأَلَ الْمَاءَ، فَقَالُوا لَهٗ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: "دِبَاغُهَا طَهُورُهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 511 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب

روایت ہے بنی عبدالاشہل کی ایک بی بی صاحبہ سے ۱؎فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله ہمارا مسجد کا راستہ غلیظ ہے جب بارش ہو تو ہم کیا کریں۲؎فرمایا کیا اس کے بعد اس سے اچھا راستہ نہیں ہے میں بولی ہاں فرمایا تو وہ اس کے بدلے میں ہے ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِيْ عبْدِ الأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّ لَنَا طَرِيْقًا إِلَى الْمَسْجِد مُنْتِنَةً، فَكَيْفَ نَفْعَلُ إِذا مُطِرْنَا؟ قَالَتْ: فَقَالَ: "أَلَيْسَ بعْدَهَا طَرِيْقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟ "، قُلْتُ: بلٰى، قَالَ: "فَهٰذِهٖ، بِهٰذِهٖ، ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 512 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اورننگے پاؤں چلنے سے وضو نہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّيْ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-وَلَا نَتَوَضَّأُ مِنَ المَوْطِئِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 513 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن صحابہ اس کی وجہ سے مسجد نہ دھوتے تھے ∞۱؎(بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ الْكِلَابُ تُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجدِ فِيْ زَمَانِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُونُوْا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 514 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کے پیشاب میں کچھ حرج نہیں جس کا گوشت کھایا جائے۔

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا بَأْسَ بِبَوْلِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 515 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب

اور جابر کی روایت میں ہے کہ جس کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب سے کوئی حرج نہیں ۱؎

وَفِيْ رِوَايَةِ جَابِرٍ قَالَ:"مَا أُكِلَ لَحْمُهٗ فَلَا بَأْسَ بِبَوْلِهٖ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 516 ، باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب