DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Mujadilah Ayat 11 Translation Tafseer

رکوعاتہا 3
سورۃ ﳾ
اٰیاتہا 22

Tarteeb e Nuzool:(105) Tarteeb e Tilawat:(58) Mushtamil e Para:(28) Total Aayaat:(22)
Total Ruku:(3) Total Words:(526) Total Letters:(2014)
11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اے ایمان والو!۔} شانِ نزول: نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غزوہِ بدر میں  حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں  نے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضورپُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواب دیا، پھر اُنہوں  نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں  کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں  جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ چیزگراں  گزری توآپ نے اپنے قریب والوں  کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں  کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں  میں  جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللّٰہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں  جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں  اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللّٰہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کے باعث تم میں  سے ایمان والوں  کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ تمہارے کاموں  سے خبردار ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۴۰-۲۴۱)

بزرگانِ دین کی تعظیم کرنا سنت ہے:

            اس آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہواکہ بزرگانِ دین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا جائز بلکہ سنت ہے حتّٰی کہ مسجد میں  بھی ان کی تعظیم کر سکتے ہیں  کیونکہ یہ واقعہ مسجد ِنبوی شریف میں  ہی ہوا تھا۔یاد رہے کہ حدیث ِپاک میں  بزرگانِ دین اور دینی پیشواؤں  کی تعظیم و توقیر کا باقاعدہ حکم بھی دیا گیا ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جن سے تم علم حاصل کرتے ہوان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے تواضع اختیار کرو اور سرکَش عالِم نہ بنو۔( الجامع لاخلاق الراوی، باب توقیر المحدّث طلبۃ العلم۔۔۔ الخ، تواضعہ لہم، ص۲۳۰، الحدیث: ۸۰۲)

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بزرگانِ دین کی تعظیم کرتا رہے اور ان کی بے ادبی کرنے سے بچے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  ادب و تعظیم کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 مسلمانوں  کی تعظیم کرنے کی ترغیب:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللّٰہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں  ۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرناجو قرآن میں  غُلُو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا،اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے ۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۴، الحدیث: ۴۸۴۳)

فضیلت اور مرتبے والوں  کو اگلی صفوں  میں  بٹھایا جا سکتا ہے:

            یاد رہے کہ مجلس کے آداب میں  یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں  کہ اہم حضرات کیلئے نمایا ں  جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں  قسم کی مجلسوں  میں  سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔ حضرت ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم میں  سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں  انہیں  میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ،پھر جو ان کے قریب ہوں  ،پھر جو ان کے قریب ہوں  ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث: ۶۷۴)

            اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں  سے ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق معاملہ کرو۔( ابو داؤد ، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۳، الحدیث: ۴۸۴۲)

فضیلت اور مرتبے والے خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھیں :

            فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں  کیونکہ کثیر اَحادیث میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے ،جیسا کہ حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص مجلس میں  سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔( مسلم،کتاب السلام،باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث:۲۷(۲۱۷۷))

            حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی دوسری روایت میں  ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں  چاہئے کہ )دوسروں  کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۷۹، الحدیث: ۶۲۷۰)

علم حاصل کرنے کی ترغیب اور علم و علماء کے فضائل:

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماءِدین بڑے درجے والے ہیں  اوردنیا و آخرت میں  ان کی عزت ہے، جب اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے درجات کی بلندی کا وعدہ کیا ہے تو انہیں  اس کے فضل و کرم سے دنیاوآخرت میں  عزت ضرور ملے گی۔حضرت حسن بصری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  :حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسی آیت کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا:اے لوگو!اس آیت کو سمجھو اور علم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جاؤ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ مومن عالِم کو اس مومن سے بلند درجات عطا فرمائے گا جو عالِم نہیں  ہے ۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴ / ۲۴۱)

            یہاں  موضوع کی مناسبت سے علم اور علماء کے15فضائل ملاحظہ ہوں :

(1)…ایک ساعت علم حاصل کرنا ساری رات قیام کرنے سے بہتر ہے۔( مسند الفردوس، باب الطائ، ۲ / ۴۴۱، الحدیث: ۳۹۱۷)

(2)…علم عبادت سے افضل ہے۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۸، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۵۳)

(3)…علم اسلام کی حیات اور دین کا ستون ہے۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۸، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۵۷)

(4)…علماء زمین کے چراغ اور انبیاء ِکرام  عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں  ۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۵۹، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۷۳)

(5)…مرنے کے بعد بھی بندے کو علم سے نفع پہنچتا رہتا ہے۔( مسلم، ص۸۸۶، الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱))

(6)…ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں  سے زیادہ بھاری ہے۔( ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴ / ۳۱۱، الحدیث: ۲۶۹۰)

(7)…علم کی مجالس جنت کے باغات ہیں  ۔( معجم الکبیر، مجاہد عن ابن عباس، ۱۱ / ۷۸، الحدیث: ۱۱۱۵۸)

(8)…علم کی طلب میں  کسی راستے پر چلنے والے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔( ترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، ۴ / ۲۹۴، الحدیث: ۲۶۵۵)

(9)…قیامت کے دن علماء کی سیاہی اور شہداء کے خون کا وز ن کیا جائے گا تو ان کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آجائے گی۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۱، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۱۱)

(10)…عالِم کے لئے ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے حتّٰی کہ سمندر میں  مچھلیاں  بھی مغفرت کی دعا کرتی ہیں ۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۳، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۳۵)

(11)…علماء کی صحبت میں  بیٹھنا عبادت ہے۔( مسند الفردوس، باب المیم، ۴ / ۱۵۶، الحدیث: ۶۴۸۶)

(12)…علماء کی تعظیم کرو کیونکہ وہ انبیاء ِکرام  عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں ۔( ابن عساکر، عبد الملک بن محمد بن یونس بن الفتح ابو قعیل السمرقندی، ۳۷ / ۱۰۴)

(13)…اہلِ جنت ،جنت میں  علماء کے       محتاج ہوں  گے۔( ابن عساکر، محمد بن احمد بن سہل بن عقیل ابوبکر البغدادی الاصباغی، ۵۱ / ۵۰)

(14)…علماء آسمان میں  ستاروں  کی مثل ہیں  جن کے ذریعے خشکی اور تری کے اندھیروں  میں  راہ پائی جاتی ہے۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۵، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۶۵)

(15)…قیامت کے دن انبیاء ِکرام  عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد علماء شفاعت کریں  گے۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵ / ۶۵، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۷۶۶)

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  علم ِدین حاصل کرنے اور ا س پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

            نوٹ:علم اور علماء ِکرام کے فضائل وغیرہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے راقم کی کتاب’’علم اور علماء کی فضیلت‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links