DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Hashr Ayat 14 Translation Tafseer

رکوعاتہا 3
سورۃ ﳿ
اٰیاتہا 24

Tarteeb e Nuzool:(101) Tarteeb e Tilawat:(59) Mushtamil e Para:(28) Total Aayaat:(24)
Total Ruku:(3) Total Words:(497) Total Letters:(1943)
14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍؕ- بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌؕ-تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰىؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ(۱۴)
ترجمہ: کنزالعرفان
یہ سب (مل کر بھی) تم سے نہ لڑیں گے مگر قلعہ بند شہروں میں یا دیواروں کے پیچھے سے ،ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہے۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں ، یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا: یہ سب (مل کر بھی)  تم سے نہ لڑیں  گے ۔} یعنی اے مسلمانو!سب یہودی مل کر بھی اعلانیہ تم سے نہ لڑیں  گے بلکہ قلعہ بند شہروں  میں  یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر لڑیں  گے۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۴، ۹ / ۴۴۰-۴۴۱)چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مدینہ منورہ کے اہلِ کتاب نے کبھی کھلم کھلا مسلمانوں  کے مقابلے کی ہمت نہ کی، بلکہ غزوۂ خندق کے بعد جب مسلمانوں  نے ان کی بد عہدی کی بنا پر ان سے مقابلہ کیا تو وہ اپنے کوچہ بند محلوں  میں  بند ہو کر بیٹھ گئے ،پھر مجبوراً نکلے تو بنوقریظہ قتل اور بنو نضیر جلا وطن کر دئیے گئے،یوں  اللّٰہ تعالیٰ نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔ خیال رہے کہ یہاں  صرف مدینہ منورہ کے کتابیوں  کا ذکر ہے، لہٰذا اس آیت پر یہ اعتراض نہیں  کیا جا سکتا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے میں  مشرکین اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں  یہودی اور عیسائی مسلمانوں  کے مقابلے میں  آئے اور ان سے بڑی بڑی لڑائیاں  ہوئیں ۔

{بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ: ان کی آپس میں  لڑائی بہت سخت ہے۔}   یعنی جب وہ یہودی آپس میں  لڑتے ہیں  تو بہت شدت اور سختی سے لڑتے ہیں  لیکن مسلمانوں کے مقابلے میں  بزدل اور نامرد ثابت ہوتے ہیں  کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے دلوں  میں  مسلمانوں  کا رعب ڈال دیاہے ۔

{تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى: تم انہیں  اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں ۔} یعنی اے سننے والے تم انہیں  ایک متحد ،متفق اور ایک دوسرے سے اُلفت رکھنے والی جماعت سمجھتے ہوحالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں  اور وہ ایک دوسرے سے کوئی الفت نہیں  رکھتے اور ان کے دلوں  کا الگ الگ ہونا اس لیے ہے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں  ، نہ حق کو پہچانتے ہیں  اور نہ اس کی پیروی کرتے ہیں  ۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۴، ۹ / ۴۴۱)

مسلمان کافروں  پر کسی صورت اعتماد نہ کریں  :

            اس آیت سے معلو م ہواکہ کفار مسلمانوں  کے مقابلے میں  کسی مصلحت کی وجہ سے ایک ہوجاتے ہیں  ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں  باہمی اتفاق اور اتحاد نہیں  ہے بلکہ یہ ایک دوسرے کے شدید دشمن ہیں  اور اپنی دشمنی نکالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں  دیتے۔حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ایمان والے ایک دوسرے کے خیرخواہ اورباہم محبت کرنے والے ہوتے ہیں  اگرچہ ان کے گھر اور اَجسام جدا جدا ہوں اورفاجرلوگ آپس میں  ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ اورخیانت کرنے والے ہوتے ہیں  اگرچہ ان کے گھر اور بدن اکھٹے ہوں  ۔( الفردوس بماثورالخطاب، باب المیم، ۴ / ۱۸۹، الحدیث: ۶۵۸۴)

            فی زمانہ بھی ا س کے نظارے دیکھے جا رہے ہیں  ،لہٰذا مسلمانوں  کو چاہئے کہ کفار پر کسی صورت اعتماد نہ کریں  بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں  پر اعتماد کریں  اور مسلمانوں  کوبھی چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے اعتماد پر پورا اُتریں  ۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links