DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Ahqaf Ayat 9 Translation Tafseer

رکوعاتہا 4
سورۃ ﳯ
اٰیاتہا 35

Tarteeb e Nuzool:(66) Tarteeb e Tilawat:(46) Mushtamil e Para:(26) Total Aayaat:(35)
Total Ruku:(4) Total Words:(718) Total Letters:(2624)
9

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْؕ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(۹)
ترجمہ: کنزالعرفان
تم فرماؤ: میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیاہوگا؟ میں تو اسی کا تابع ہوں جو مجھے وحی ہوتی ہے اور میں تو صرف صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ: تم فرماؤ: میں  کوئی انوکھا رسول نہیں  ہوں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرنت نئے اعتراضات کرنا کفارِ مکہ کا معمول تھا،چنانچہ کبھی وہ کہتے کہ کوئی بشرکیسے رسول ہوسکتاہے؟ رسول توکسی فرشتے کوہوناچاہیے ،کبھی کہتے کہ آپ توہماری طرح کھاتے پیتے ہیں  ،ہماری طرح بازاروں  میں  گھومتے پھرتے ہیں ،آپ کیسے رسول ہوسکتے ہیں  ؟کبھی کہتے: آپ کے پاس نہ مال ودولت ہے اورنہ ہی کوئی اثر ورسوخ ہے ۔ان سب باتوں  کاجواب اس آیتِ مبارکہ میں  دیاگیاکہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں :میں کوئی انوکھارسول نہیں  ہوں  بلکہ مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں ، وہ بھی انسان ہی تھے اوروہ بھی کھاتے پیتے تھے اور یہ چیزیں  جس طرح ان کی نبوت پر اعتراض کا باعث نہ تھیں  اسی طرح میری نبوت پر بھی اعتراض کا باعث نہیں  ہیں  تو تم ایسے فضول شُبہات کی وجہ سے کیوں  نبوت کا انکار کرتے ہو؟

            دوسری تفسیر یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کفارِ مکہ عجیب معجزات دکھانے اور عناد کی وجہ سے غیب کی خبریں  دینے کا مطالبہ کیا کرتے تھے ۔اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا گیا کہ آپ کفارِ مکہ سے فرما دیں  کہ میں  انسانوں  کی طرف پہلا رسول نہیں  ہوں  بلکہ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول تشریف لاچکے ہیں  اور وہ سب اللہ تعالیٰ کے بندوں  کو اس کی وحدانیّت اور عبادت کی طرف بلاتے تھے اور میں  اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف بلانے والا نہیں  ہوں  بلکہ میں  بھی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت پر ایمان لانے اور سچے دل کے ساتھ اس کی عبادت کرنے کی طرف بلاتا ہوں  اور مجھے اَخلاقی اچھائیوں  کو پورا کرنے کے لئے بھیجاگیا ہے اور میں  بھی اس چیز پر (ذاتی)قدرت نہیں  رکھتا جس پر مجھ سے پہلے رسول (ذاتی) قدرت نہیں  رکھتے تھے، تو پھر میں  تمہیں  تمہارا مطلوبہ ہر معجزہ کس طرح دکھا سکتا ہوں  اور تمہاری پوچھی گئی ہر غیب کی خبر کس طرح دے سکتا ہوں  کیونکہ مجھ سے پہلے رسول وہی معجزات دکھایا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں  عطا فرمائے تھے اور اپنی قوم کو وہی خبریں  دیا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی تھیں  اور جب میں  نے پچھلے رسولوں  سے کوئی انوکھا طریقہ اختیار نہیں  کیا تو پھر تم میری نبوت کا انکار کیوں  کرتے ہو؟( تفسیرکبیر ، الاحقاف ، تحت الآیۃ : ۹، ۱۰ / ۹ ، خازن ، الاحقاف ، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۱۲۳، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۸ / ۴۶۷، ملتقطاً)

{وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ: اور میں  نہیں  جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟} آیت کے اس حصے کے بارے میں  مفسرین نے جو کلام فرمایا ہے ا س میں  سے چار چیزیں  یہاں  درج کی جاتی ہیں ،

 (1)…یہ آیت منسوخ ہے ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں  دو صورتیں  ہیں  ،پہلی صورت یہ کہ اگر اس آیت کے یہ معنی ہوں ’’ قیامت میں  جو میرے اور تمہارے ساتھ کیا جائے گا وہ مجھے معلوم نہیں ۔‘‘تو یہ آیت سورہِ فتح کی آیت نمبر 2 اور 5 سے منسوخ ہے ،جیسا کہ حضرت عکرمہ اور حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیت کے بارے میں  فرماتے ہیں : اسے سورہِ فتح کی اس آیت ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱) لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ۔۔۔الایۃ ‘‘ نے منسوخ کر دیا ہے۔(تفسیر طبری، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۱۱ / ۲۷۶)

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :آیت کریمہ ’’وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ‘‘ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیات ’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ اور ’’لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ۔۔۔الایۃ ‘‘ نازل فرمائیں  اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بتا دیا کہ وہ آپ کے ساتھ اور ایمان والوں  کے ساتھ (آخرت میں ) کیا معاملہ فرمائے گا۔( در منثور، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۷ / ۴۳۵)

            اس کی تفصیل ا س حدیثِ پاک میں  ہے ،چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :حُدَیْبِیَہ سے واپسی کے وقت نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر یہ آیت نازل ہوئی:

’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ (فتح:۲)

ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ اللہ  تمہارے صدقے تمہارےاگلوں  کے اور تمہارے پچھلوں  کے گناہ بخش دے۔

            توحضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین پر موجود تمام چیزوں  سے زیادہ محبوب ہے۔پھر نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے اسی آیت کی تلاوت فرمائی توانہوں  نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کو مبارک ہو،اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے تو بیان فرما دیا کہ وہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا،اب (یہ معلوم نہیں  کہ) ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا،تو تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘(فتح:۵)

ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ وہ ایمان والے مَردوں  اور ایمان  والی عورتوں  کو ان باغوں  میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ہمیشہ ان میں  رہیں  گے اور تاکہ اللہ ان کی برائیاں  ان سے مٹادے، اور یہ اللہ کے یہاں  بڑی کامیابی ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الفتح، ۵ / ۱۷۶، الحدیث: ۳۲۷۴)

            علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں  کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مشرک خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ لات و عُزّیٰ کی قسم! اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمارا اور محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا یکساں  حال ہے ، انہیں  ہم پر کچھ بھی فضیلت نہیں  ، اگر یہ قرآن ان کا اپنا بنایا ہوا نہ ہوتا تو ان کو بھیجنے والا انہیں  ضرور خبر دیتا کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرے گا ۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

’’ لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ (فتح:۲)

ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ اللہ  تمہارے صدقے تمہارےاگلوں  کے اور تمہارے پچھلوں  کے گناہ بخش دے۔

           صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضور کو مبارک ہو، آپ کو تو معلوم ہوگیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا ،اب یہ انتظار ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ کیا کرے گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

’’ لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ(فتح:۵)

ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ وہ ایمان والے مَردوں  اور ایمان والی عورتوں  کو ان باغوں  میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں  بہتی ہیں ۔

            اور یہ آیت نازل ہوئی:

’’ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا‘‘(احزاب:۴۷)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ایمان والوں  کو خوشخبری دیدو کہ ان کے لیے اللہ کا بڑا فضل ہے۔

            تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ اور مومنین کے ساتھ کیا کرے گا۔( خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۱۲۳)

          دوسری صورت یہ ہے کہ آخرت کا حال تو حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنا بھی معلوم ہے ، مومنین کا بھی اورجھٹلانے والوں  کا بھی ،اور اس آیت کے معنی یہ ہیں  ’’ دنیا میں  کیا کیا جائے گا، یہ معلوم نہیں ‘‘ اگر آیت کے یہ معنی لئے جائیں  تو بھی یہ آیت منسوخ ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ بھی بتادیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ‘‘( توبہ:۳۳)

ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ اسے تمام دینوں  پر غالب کردے۔

            اورارشاد فرمایا:

’’وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ‘‘(انفال:۳۳)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ کی یہ شان نہیں  کہ انہیں  عذابدے جب تک اے حبیب! تم ان میں  تشریف فرما ہو۔( خازن، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۱۲۳، خزائن العرفان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ص۹۲۴)

            یہاں  اس آیت کے منسوخ ہونے کے بارے میں  جو تفصیل بیان کی اسے دوسرے انداز میں  یوں  بیان کیا گیا ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ فرمانا ’’وَ مَاۤ اَدْرِیْ مَا یُفْعَلُ بِیْ وَ لَا بِكُمْ‘‘ قرآنِ مجید کا نزول مکمل ہونے سے پہلے کی بات ہے ،ا س لئے یہاں  فی الحال جاننے کی نفی ہے۔ آئندہ اس کا علم حاصل نہ ہونے کی نفی نہیں  ہے۔ چنانچہ علامہ احمدصاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :یہ آیت اسلام کے ابتدائی دور میں  ،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مومنین اور کفارکا انجام بیان کئے جانے سے پہلے نازل ہوئی، ورنہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ا س وقت تک دنیا سے تشریف نہ لے گئے یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں  قرآنِ مجید میں  اِجمالی اور تفصیلی طور پر وہ سب کچھ بتا دیا جو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مومنین اور کفار کے ساتھ کیا جائے گا۔( صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۵ / ۱۹۳۳-۱۹۳۴)

(2)…یہاں ذاتی طور پر جاننے کی نفی کی گئی ہے اور اس میں  کوئی شک نہیں  کہ یہ نفی دائمی اور اَبدی ہے، لیکن اس سے اللہ تعالیٰ کے بتانے سے ہر چیز کے جاننے کی نفی نہیں  ہوتی۔ جیسا کہ علامہ نظام الدّین حسن بن محمد نیشا پوری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :آیت کے اس حصے میں  اپنی ذات سے جاننے کی نفی ہے وحی کے ذریعے جاننے کی نفی نہیں  ہے۔( غرائب القرآن ورغائب الفرقان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۶ / ۱۱۸)

            صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کو حضور کے ساتھ اور حضور کی امت کے ساتھ پیش آنے والے اُمور پر مُطَّلع فرما دیا خواہ وہ دنیا کے ہوں  یا آخرت کے اور اگر دِرایَت بَمعنی اِدراک بِالقیاس یعنی عقل سے جاننے کے معنی میں  لیا جائے تو مضمون اور بھی زیادہ صاف ہے اور آیت کا اس کے بعد والا جملہ اس کا مُؤیِّد ہے۔( خزائن العرفان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ص۹۲۴)

(3)…یہاں  تفصیلی دِرایَت کی نفی ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیشہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مومنین پر فضل و ثواب کی خِلعَتُوں  کی نوازش کرتا رہے گا اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں  پر ذلت و عذاب کے تازیانے اور کوڑے برساتا رہے گا اور یہ سب کے سب غیر مُتناہی ہیں  یعنی ان کی کوئی انتہاء نہیں ، اور غیر مُتناہی کی تفصیلات کا اِحاطہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی کر سکتا ہے ۔

            علامہ نیشا پوری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی آیت کے ضمن میں  فرماتے ہیں  :تفصیلی دِرایَت حاصل نہیں  ہے۔( غرائب القرآن ورغائب الفرقان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۶ / ۱۱۸)

            اورعلامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں  ـ:ممکن ہے کہ یہاں  جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ تفصیلی دِرایَت ہو،یعنی مجھے اِجمالی طور پر تو معلوم ہے لیکن میں  تمام تفصیلات کے ساتھ یہ نہیں  جانتا کہ دنیا اور آخرت میں  میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گاکیونکہ مجھے (ذاتی طور پر )غیب کا علم حاصل نہیں  ۔

            آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں  :اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مُبَلِّغ(یعنی بندوں  تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دینے والا )بنا کر بھیجا گیا ہے اور کسی کو ہدایت دے دینا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذمہ داری نہیں  بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غیبوں  کا ذاتی علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے جبکہ انبیا ء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء ِعظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کا غیبی خبریں  دینا وحی، اِلہام اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے واسطے سے ہے۔( روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۹، ۸ / ۴۶۷-۴۶۸)

(4)…یہاں  دِرایَت کی نفی ہے، علم کی نہیں  ۔دِرایَت کا معنی قیاس کے ذریعے جاننا ہے یعنی خبر کی بجائے آدمی اپنی عقل سے جانتا ہواور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے اُخروی اَحوال کو اپنے عقلی قیاس سے نہیں  جانا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جانا۔ یہ معنی اوپر دوسری تاویل میں  خزائن العرفان کے حوالے سے ضمنی طور پربھی موجود ہے۔

            خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کے ساتھ اور آپ کی امت کے ساتھ پیش آنے والے امُور پر مُطَّلع فرمادیا ہے خواہ وہ دنیا کے اُمور ہوں  یا آخرت کے اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غیب کا ذاتی علم نہیں  رکھتے اور جوکچھ جانتے ہیں  وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے جانتے ہیں  ۔

            نوٹ:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی کتاب ’’اِنْبَاءُ الْحَی اَنَّ کَلَامَہُ الْمَصُونُ تِبْیَانٌ لِکُلِّ شَیْئ‘‘ (قرآنِ مجید ہر چیز کا روشن بیان ہے)میں  اسی آیت کو ذکرکر کے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کی نفی پر بطورِ دلیل یہ آیت پیش کرنے والوں  کا رد فرمایا اور اس آیت میں  مذکور نفی ’’وَ مَاۤ اَدْرِیْ:میں  نہیں  جانتا‘‘ کے 10جوابات ارشاد فرمائے ہیں ،ان کی معلومات حاصل کرنے کے لئے مذکورہ بالا کتاب کا مطالعہ فرمائیں ۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links