DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Ahqaf Ayat 20 Translation Tafseer

رکوعاتہا 4
سورۃ ﳯ
اٰیاتہا 35

Tarteeb e Nuzool:(66) Tarteeb e Tilawat:(46) Mushtamil e Para:(26) Total Aayaat:(35)
Total Ruku:(4) Total Words:(718) Total Letters:(2624)
20

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِؕ-اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ-فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠(۲۰)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں گے (تو کہا جائے گا) تم اپنے حصے کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے تو آج تمہیں ذلت کے عذاب کابدلہ دیا جائے گا کیونکہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن کافر جہنم کی آگ پر پیش کیے جائیں  گے تواس وقت ان سے فرمایا جائے گا:تم لذّتوں  میں  مشغول ہو کراپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے ،اس لئے یہاں  آخرت میں  تمہارا کوئی حصہ باقی نہ رہا جسے تم لے سکو، تو تم جودنیامیں  ایمان قبول کرنے سے ناحق تکبر کرتے تھے اوراحکامات کو ترک کر کے اور ممنوعات کا اِرتکاب کر کے نافرمانی کیا کرتے تھے ا س کے بدلے میں  آج تمہیں  ذلیل اور رسوا کردینے والا عذاب دیا جائے گا۔(صاوی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۵ / ۱۹۳۹-۱۹۴۰، روح البیان، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۸ / ۴۷۹، ملتقطاً)

اُخروی ثواب میں  اضافے کی خاطر دُنْیَوی لذتوں  کو ترک کر دیناـ:

            اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے دُنْیَوی لذتوں  اور عیش و عشرت کو اختیارکرنے پر کفار کی مذمت اور انہیں  ملامت فرمائی ہے،اسی لئے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور امت کے دیگر نیک لوگ دنیا کے عیش و عشرت اور اس کی لذتوں  سے کنارہ کَش رہتے تھے اور زہد و قناعت والی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے تاکہ آخرت میں  ان کا ثواب زیادہ ہو۔( الوسیط، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴ / ۱۱۰) یہاں  اسی سے متعلق دو رِوایات ملاحظہ ہوں  :

(1)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : میں  نے کاشانۂ اَقدس میں  دیکھا تو خدا کی قسم! مجھے تین کھالوں  کے سوا کچھ نظر نہ آیا،میں  نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ کی امت پر وسعت فرمائے کیونکہ ا س نے ایران اور روم کے لئے وسعت کر کے انہیں  دنیا عطا فرمائی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں  کرتے ۔حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے ابنِ خطاب!کیا تمہیں  اس میں  شک ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں  جنہیں  ان کے حصے کی پاک چیزیں  دنیا میں ہی جلد دے دی گئی ہیں  ۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے لئے مغفرت کی دعا فرما دیجئے۔( بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب الغرفۃ والعلیۃ... الخ، ۲ / ۱۳۳، الحدیث: ۲۴۶۸)

(2)…حضرت سالم بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!ہمیں بھی زندگی کی لذّتیں  حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور ہم بھی یہ حکم دینا چاہتے ہیں  کہ ہمارے لئے چھوٹی بکری بھونی جائے ،میدے کی روٹی اور مشکیزے میں  نبیذ بنائی جائے، یہاں  تک کہ جب گوشت چکور(یعنی تیتر کی مثل پہاڑی پرندے کے گوشت) کی طرح(نرم) ہو جائے تواسے کھائیں  اور نبیذ پئیں ،لیکن (ہم ایسا نہیں  کرتے بلکہ) ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں  کہ پاکیزہ چیزوں  کو آخرت کے لئے بچا لیں  کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سن رکھا ہے:

’’اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا‘‘

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے۔( حلیۃ الاولیاء، عمر بن الخطاب، ۱ / ۸۵، الحدیث: ۱۱۸)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی اُخروی ثواب میں  اضافے کی خاطر دنیا کی لذّتوں  اور اس کے عیش و عشرت کو ترک کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی دنیا سے کنارہ کشی:

            حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہر چیز کے مالک ہیں  اور آپ جیسی چاہتے ویسی شاہانہ زندگی بسر فرما سکتے تھے لیکن آپ نے اس زندگی پر قدرت و اختیار کے باوجود زُہد و قناعت سے بھر پور اور دنیا کے عیش و عشرت سے دور رہتے ہوئے زندگی بسر فرمائی اور آپ کی صحبت سے فیض یافتہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے بھی اسی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی ،یہاں  ان کی زاہدانہ زندگی کے مزید6واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ معاملہ پیش فرمایا کہ میرے لیے مکہ کی واد ی سونے کی بنادے ،میں  نے عرض کی: اے میرے رب! (عَزَّوَجَلَّ) نہیں ، میں  ایک دن پیٹ بھرکرکھائوں  گااورایک دن بھوکارہوں  گا،پھرجب میں  بھوکارہوں  گاتوتجھ سے فریاد کروں  گااورتجھے یادکروں  گااورجب میں  سیرہوکرکھائوں  گاتومیں  تیراشکراداکروں  گااورتیری حمد کروں  گا۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الکفاف والصبر علیہ، ۴ / ۱۵۵، الحدیث: ۲۳۵۴)

(2)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں  : پورا پور امہینہ گزر جاتا تھا مگرگھر میں  آ گ نہ جلتی تھی ، محض چند کھجوروں  اورپانی پر گزارہ کیا جاتا تھا ۔( بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ، ۴ / ۲۳۶، الحدیث: ۶۴۵۸)

 (3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں  :ایک مرتبہ حضرت سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے (جَو کی) روٹی کا ایک ٹکڑا نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  پیش کیاتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ پہلاکھاناہے جو تین دن کے بعدتمہارے والد کے منہ میں  داخل ہواہے ۔( معجم الکبیر، ومما اسند انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ، ۱ / ۲۵۸، الحدیث: ۷۵۰)

(4)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں  :رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات تک آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہلِ بیت نے کبھی جَو کی روٹی بھی دو دن مُتَواتِر نہ کھائی۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۸، الحدیث: ۲۲(۲۹۷۰))

(5)…حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : ہم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  بھوک کی شکایت کی اوراپنے پیٹ سے کپڑااٹھاکرآپ کوپیٹ پربندھے ہوئے پتھردکھائے تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے پیٹ پربندھے ہوئے دوپتھردکھائے ۔( ترمذی، کتاب الزہد، باب ماجاء فی معیشۃ اصحاب النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۴ / ۱۶۴، الحدیث: ۲۳۷۸)

(6)…جب حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ملکِ شام میں  گئے توان کے لیے ایسالذیذ کھاناتیارکیاگیاکہ اس سے پہلے اتنالذیذ کھانادیکھانہیں  گیاتھا،حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:یہ کھاناہمارے لئے ہے توان     محتاج مسلمانوں  کے لیے کیاتھاجواس حا ل میں  فوت ہوگئے کہ انہوں  نے جَوکی روٹی بھی پیٹ بھرکرنہیں  کھائی؟ حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی:ان کے لیے جنت ہے ۔یہ سن کرحضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھوں  سے آنسوبہنے لگے اورآپ نے فرمایا :کاش!ہمارے لیے دنیاکاحصہ چندلکڑیاں  ہوتیں  ،وہ محتاج مسلمان اپنے حصے میں  جنت لے گئے، ہم میں  اوران میں  بہت فرق ہے ۔( قرطبی، الاحقاف، تحت الآیۃ: ۲۰، ۸ / ۱۴۶، الجزء السادس عشر)

            کائنات کی ان مُقَدّس ہستیوں  کے زُہد و قناعت کاصدقہ اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی زہد و قناعت کی عظیم دولت عطا فرمائے،اٰمین۔

نفس کو نہ کھلی چھٹی دی جائے نہ ہر حال میں  اس کی پیروی کی جائے:

            امام محمدغزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ بزرگانِ دین کے زُہد و قناعت اور دُنْیَوی لذّتوں سے کنارہ کشی کے واقعات ذکر کرنے کے بعدفرما تے ہیں : خلاصہ یہ ہے کہ نفس کو جائز خوا ہشات کے لئے بھی کھلی چھٹی نہیں  دینی چاہئے اور نہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ ا س کی ہر حال میں  پیروی کی جائے ،بندہ جس قدر خواہشات کو پورا کرتا ہے اسی قدر اسے اس بات کا ڈر بھی ہونا چاہئے کہ کہیں  قیامت کے دن ا س سے یہ نہ کہہ دیا جائے:

’’ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا‘‘

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے۔

            اور جس قدر بندہ اپنے نفس کو مجاہدات میں  ڈالے گا اور خواہش کو چھوڑے گا اسی قدر آخرت میں  من پسند چیزوں  سے نفع اٹھائے گا۔( احیاء علوم الدین، کتاب کسر الشہوتین، بیان طریق الریاضۃ فی کسر شہوات البطن، ۳ / ۱۱۸)

اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ لذیذ چیزوں  سے فائدہ اٹھانے کی مذموم اور غیر مذموم صورتیں :

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی لذیذاورپسندیدہ حلال چیزوں  کوحاصل کرنا اور ان سے نفع اٹھاناگناہ نہیں  کیونکہ شریعت میں  حلال اورطیب چیزکے حصول اوراس سے نفع اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی ان چیزوں  کا استعمال جائز اور حلال سمجھتے ہوئے انہیں  ترک کرنا قابلِ مذمت ہے بلکہ مذموم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  سے فائدہ اٹھائے اوران کاشکرادانہ کرے ،یاحرام ذریعے سے حاصل کر کے انہیں  استعمال کرے ،یاحلال چیزوں  کی بجائے حرام چیزوں  سے فائدہ اٹھائے، لہٰذا بعض بزرگانِ دین کا حلال و طیب، لذیذ اور عمدہ چیزوں  کو استعمال کرنا مذموم نہیں  کیونکہ وہ شریعت کی دی ہوئی اجازت پر عمل کر رہے ہوتے ہیں  ،اسی طرح بعض بزرگانِ دین کاان چیزوں  کے استعمال سے گریز کرنا بھی مذموم نہیں  کیونکہ وہ ان کے ساتھ حرام جیسا سلوک نہیں  کرتے بلکہ ان کاا ستعمال جائز و حلال سمجھتے ہوئے اپنے نفس کی اصلاح کے لئے ایسا کرتے ہیں  ،البتہ ان لوگوں  کا طرزِ عمل ضرور مذموم ہے جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں  سے فائدہ اٹھانا اپنے اوپر حرام قرار دیتے ہوئے ان سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۱۶۸،۱۶۹)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے لوگو! جو کچھ زمین میں  حلال پاکیزہ  ہے اس میں  سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں  پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تمہیں  صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ (حکم دے گا) کہ تم اللہ کے بارے میں  وہ کچھ کہو جو خود تمہیں  معلوم نہیں ۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ‘‘(بقرہ:۱۷۲)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں  کھاؤاور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

            اور ارشاد فرمایا :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷) وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ‘‘(مائدہ:۸۷،۸۸)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں  کو حرام نہ قرار دوجنہیں  اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں  کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور جو کچھ تمہیں  اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہےاس میں  سے کھاؤ اوراس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘‘(اعراف:۳۲)

ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں  کے لئے پیدا فرمائی ہے؟ اور پاکیزہ رزق کو (کس نے حرام کیا؟) تم فرماؤ: یہ دنیا میں  ایمان والوں  کے لئے ہے، قیامت میں  تو خاص انہی کے لئے ہوگا۔ ہم اسی طرح علم والوں  کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں ۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  شریعت کے اَحکام اور مَقاصد کو سمجھنے اور اِعتدال کی راہ پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین۔

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links