Book Name:Sulah ke Fazail
یعنی تقویٰ اِخْتیار کر لیا، یعنی اپنے باطِن کو سَنْوار لیا، دِل میں گُنَاہوں کی نفرت آ گئی، اللہ پاک کا خوف دِل میں آ گیا، اب ایک اور کام کرو: آپس میں صلح صفائی رکھو...!!
قرآنِ کریم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوا:
وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ- (پارہ:5، سورۂ نساء:128)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور صلح بہترہے۔
کتنی پیاری بات ہے، صُلح بہتر ہے۔ ہمارے ہاں آج کل لڑائی جھگڑے بہت عام ہوتے جا رہے ہیں *کوئی چچا کے ساتھ ناراض ہے *کسی کی مامُوں کے ساتھ نہیں بنتی *کسی کی خالہ ناراض ہے *کوئی پھوپھی سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ چچا زاد، تایا زاد بھائی آپس میں کئی کئی دِن تک بات نہیں کرتے۔
خُدا کی پناہ...!! ہمارے غُصّے اور ناراضیاں اس حَدْ تک آ گئی ہیں کہ لوگ عید تہوار پر بھی ساتھ نہیں بیٹھتے، ملتے نہیں ہیں، صلح کی طرف بڑھتے نہیں ہیں۔
3دِن سے زیادہ ناراضی جائِز نہیں
یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے! کچھ بھی ہو، اسلام کبھی بھی لڑائی جھگڑے اور جُدائیوں کو پسند نہیں فرماتا، اِسْلام یہی چاہتا ہے کہ سب کے سب مسلمان آپس میں پیار محبّت کے ساتھ، صلح صفائی کے ساتھ رہیں۔ حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا:
لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ يَهْجُرَ اَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ
ترجمہ: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ اپنے (مسلمان) بھائی کو 3دِن سے زیادہ چھوڑے۔
یعنی بہتر تو یہ ہے کہ 3دِن کے لیے بھی کسی سے ناراضِی نہ پالے لیکن 3دِن کے بعد