Book Name:Sulah ke Fazail
پیارے اسلامی بھائیو! یہ تَو مَعْلُوم ہو گیا کہ ہم نے اپنے دِل میں غلط فہمیاں نہیں پالنی، خدانخواستہ ناراضی ہو بھی جائے تو صلح کی طرف بڑھنا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ صلح کی جانِب پہل کون کرے...؟ حدیثِ پاک سنیے! آخری نبی، مُحَمَّدِ عربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اَلسَّابِقُ السَّابِقُ اِلَى الْجَنَّة
یعنی (اگر دو مسلمانوں کے درمیان ناراضی ہو جائے تو) صلح میں پہل کرنے والا جنّت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پتا چلا؛ جو صلح کی طرف پہل کر لے گا، وہ جنّت کی طرف سبقت کرے گا۔
حَسَنَیْنِ کریمین کا پیار بھرا اَنداز
یہاں ایک بڑا خوبصُورت واقعہ ہے، حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے مَعْلُوم ہوا کہ امامِ عالی مقام امامِ حَسَن اور امامِ حُسَین رَضِیَ اللہ عنہما کی آپس میں ناراضی ہو گئی ہے۔ چنانچہ میں امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، عرض کیا: عالی جاہ! آپ مقتدٰی ہیں، لوگ آپ کی پیروی کرتے ہیں، چلیے! بھائی جان کے ساتھ صلح کر لیجیے!
امام حُسین رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: ابوہریرہ! میں صلح تو کر لُوں مگر میرے نانا جان کی