Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

اس سے محبتیں بڑھیں گی* یونہی ہمارے قریب قریب کے جو رشتے دار ہیں، خالہ، ماموں، چچا، تایا، زیادہ نہیں تو ہفتے میں ایک آدھ بار، مہینے میں ایک آدھ بار ان کے ساتھ بھی ملنے، بیٹھنے کی روٹین(Routine) رکھنی چاہیے۔ آپَس میں مل بیٹھنے سے بھی بہت ساری غلط فہمیاں دُور ہوجاتی ہیں اور صلح صفائی کی صُورتیں بن جاتی ہیں۔

غلط فہمیاں مت پالیے...!!

ایک عام پایا جانے والا مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ بعض دفعہ محض غلط فہمیوں کی وجہ سے ایک دوسرے سے دُور ہوتے ہیں۔ عموماً  لڑائی جھگڑوں  اور آپس کی ناراضیوں کے 100 میں 70 واقعات کو اگر کھول کر دیکھیں تو ان میں سے وجہ کچھ بھی نہیں نکلتی، محض غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔

دیکھیے! ہم انسان ہیں، ہمارے دِل میں خیالات آتے ہیں، غلط فہمیاں  ہو سکتی ہیں *کسی نے سلام کا جواب نہ دیا تو غلط فہمی ہو گئی*کسی نے تَوَجُّہ سے بات نہ سُنی تو غلط فہمی ہو گئی *کسی نے حال اَحْوال نہ پوچھا تو غلط فہمی ہو گئی*کسی نے بےرُخی والے انداز میں بات کی تو غلط فہمی ہو گئی *کسی نے کال رسیو نہ کی تو غلط فہمی ہو گئی *کسی کے گھر گئے، اس نے پانی نہ پوچھا تو غلط فہمی ہو گئی *کسی نے ہمیں دعوت پر نہ بُلایا تو غلط فہمی ہو گئی *کسی کی نوکری لگے، چار پیسے آجائیں تو غلط فہمی ہوتی ہے کہ پیسہ آ گیا، اب بدل گیا ہے۔ یُوں غلط فہمیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؛ ہم ان غلط فہمیوں کو پالتے ہیں، یہ گویا شیطان کو ایک سِرا  مِل جاتا ہے، ایک غلط فہمی ہوئی تو سوچنے لگتے ہیں؛ ہاں! اُس نے فُلاں وقت بھی میرے ساتھ یُوں کیا تھا، فُلاں وقت بھی ایسا ہوا تھا، وغیرہ وغیرہ اِس ایک ذرا سی