Book Name:Sulah ke Fazail
النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اسی طرح نماز پڑھنے اور زیادہ سے زیادہ صدقہ خیرات کی عادت بنانی ہے، جن پر تو زکوٰۃ فرض ہو، ان پر تو لازِم ہے کہ زکوٰۃ ادا کریں اور حساب لگا کر بلکہ عاشقِ رسول مفتی صاحِب سے حِساب لگوا کر پُوری پُوری زکوٰۃ ادا کریں۔ زکوٰۃ میں ایک روپے کی بھی کمی کرنا، گُنَاہ کا کام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نفلی صدقہ و خیرات کی بھی عادت بنائیے! بالخصوص عیدُ الفطر ہے، صدقۂ فطر ہر مسلمان آزاد مالکِ نصاب پر جس کا نصاب حاجتِ اَصْلِیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔([2]) اللہ پاک فرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) (پارہ:30، الاعلیٰ:14)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک جس نے خود کو پاک کر لیا وہ کامیاب ہوگا۔
تفسیر خزائنُ العرفان میں ہے: اِس آیت میں تَزَكّٰى سے مُراد صدقۂ فِطر دینا ہے۔([3]) یعنی جو بندہ عِیْدُ الْفطر کے موقع پر صدقۂ فِطر دے کر غریبوں کو عِیْد کی خوشیاں منانے کا موقع فراہَم کرتا ہے ، اس کا دِل ستھرا ہو جاتا ہے اور وہ فلاح و کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: مدنی سرکار، غریبوں کے غمخوار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے صدقۂ فِطْر مُقَرَّر فرمایا تاکہ فضول اور بےہودہ کلام سے روزوں کی