Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

قطع رحمی حرام ہے

پیارے اسلامی بھائیو!  یہاں تک تو بات تھی عموماً ، یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ صلح کرنے کے حوالے سے۔ مسلمانوں کے اندر جو ہمارے قریبی رشتے دار ہیں، جیسے خالہ، پھوپھی، ماموں، چچا، تایا وغیرہ جو قریب  کے رشتے دار ہیں، جن کے ساتھ ہمارا خُونی رشتہ ہوتا ہے، اُن کے ساتھ لڑائی جھگڑا رکھنا، ناراضیاں پالنا، یہ تو سخت تَرِین گُنَاہ ہے۔  حدیثِ پاک میں ہے: جو رشتے توڑتا ہے، اللہ پاک اُسے توڑ ڈالتا ہے۔ ([1])

ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صُلح کرلی

حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں۔ آپ لوگوں کو دَرْس دیا کرتے تھے، ایک دِن آپ لوگوں کو حدیثیں سُنا رہے تھے، اس دوران فرمایا: ہر قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہماری محفل سے اُٹھ جائے۔ یہ اعلان سُن کر ایک نوجوان اُٹھا  اور اپنی پھوپھی جس کے ساتھ اس کا کئی سال پُرانا جھگڑا چل رہا تھا، اس کے ہاں چلا گیا، جاکرمعافی تلافی کی، پھوپھی کو راضی کر لیا۔ جب دونوں آپس میں راضی ہو گئے تو پھوپھی نے کہا:  بیٹا! تم جا کر حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے سبب پوچھو کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ (یعنی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ  کے اِعْلان کی) حکمت کیا ہے؟ نوجوان نے حاضِر ہو کر حکمت پوچھی تو حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حُضُور انور  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  سے سنا ہے: جس قوم میں قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو، اس قوم پر اللہ پاک کی رحمت نہیں


 

 



[1]...ابو داؤد، کتاب الزکاۃ، باب صلۃ الرحم، صفحہ:276، حدیث:1694 خلاصۃً۔