Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

سے ڈروتا کہ تم پر رحمت ہو۔

تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالی نشان ہے :  کیا میں تمہیں(نفلی) روزہ ، نماز اور صدقہ سے اَفضل عمل نہ بتاؤں؟ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے عرض کی: یارَسُولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم   !اِرْشادفرمائیے، فرمایا : وہ عمل آپس میں روٹھنے والوں میں صُلح کرا دینا ہے کیونکہ روٹھنے  والوں میں ہونے والا فَساد خیر کو  کاٹ دیتا ہے۔([1])

صلح کروانے کا طریقہ

شیخِ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہمُ العالیہ فرماتے ہیں: صُلح کروانے والے کو چاہیے کہ وہ  صُلح کروانے سے پہلے اللہ پاک کی بارگاہ میں کامیابی کی  دُعا کرے پھر اُن  دونوں کو اَلگ اَلگ بٹھا کر ان کی شِکایات سُنے اور اَہم نِکات لکھ لے ۔  ایک فریق کی بات سُن کر کبھی بھی فیصلہ نہ کرے کہ  ہو سکتا ہے  جس کی بات اس نے  سُنی وہی غَلَطی پر ہو، اس طرح  دوسرے فریق کی حَق تلفی کا قَوی اِمکان ہے ۔  فریقین  کی بات سننے کے بعد انہیں صُلح پر آمادہ کرے اور سمجھائے کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفے ٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم   کی مُبارَک زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ آپ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم   نے تکلیف دینے والوں، سَتانے والوں بلکہ اپنے جانی دُشمنوں کو بھی مُعاف فرما یا ہے۔

اسی طرح فریقین کو صُلح کے فَضائل اور آپس کے اِختلافات کے سبب پیدا ہونے والے  لڑائی جھگڑے ، بُغض و حسد ، گالی گلوچ ، بے جا غصّے اور کینے وغیرہ کے دِینی و دُنیوی


 

 



[1]...ابو داود، کتاب الاداب، باب فی اصلاح ذات البین، صفحہ:771، حدیث:4919۔