Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

اس سے تیسرے کے دِل میں وسوسے آ سکتے ہیں، بدگمانی پھیل سکتی ہے اور ناراضی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ کام جو مسلمانوں کے درمیان نفرت کا سبب بنے، اسلام ہمیں اس سے منع فرماتا ہے۔

جُدا جُدا مت رہو...!!

بلکہ صحابئ رسول حضرت ثَعْلبہ خُشَنی رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: لوگوں کی عادت تھی کہ دورانِ سَفَر کسی گھاٹی یا وادی میں ٹھہرتے تو پھیل جاتے (یعنی الگ الگ ہو کر بیٹھ جاتے) ، اِس پر اللہ پاک کے پیارے رسول، رسولِ مَقْبول  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: بے شک تمہارا اِن گھاٹیوں اور وادیوں میں الگ الگ ٹھہرنا شیطان کی طرف سے ہے، اس کے بعد لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو ایک جگہ مِل کر رہتے۔ ([1])

پتا چلا؛ مسلمانوں کو آپس میں دُور دُور رہنا، یہ بھی شیطان کے اَثَر سے ہے۔ جب جسمانی طور پر دُوریاں بڑھ جاتی ہیں تو آہستہ آہستہ دِلوں میں بھی دُوریاں آ جاتی ہیں۔ آج کل یہ بھی ایک مسئلہ ہے، مکان پکّے ہوتے جا رہے ہیں، تعلّقات کچے ہو رہے ہیں، دِلوں میں دُوریاں آتی جا رہی ہیں، بعض دفعہ ایک ہی گھر میں رہنے والوں کو آپس میں مُلاقات کا موقع نہیں ملتا، کتنے کتنے دِن گزر جاتے ہیں، مِل بیٹھنا تو دُور کی بات، فون پر بات نہیں ہو پاتی۔ عِیْد کا دِن تو خصوصیت کے ساتھ مِل جُل کر خوشیاں بانٹنے کا دِن ہے، اس کے عِلاوہ بھی چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک وقت کا کھانا ایک ساتھ کھائیں* سب گھر والے مِل کر بیٹھیں*آپس میں اچھی اچھی باتیں کریں*ایک دوسرے کا حال اَحْوال مَعْلُوم کریں،


 

 



[1]...ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب مایؤمر من انضمام العسکر...الخ، صفحہ:418، حدیث:2628ملتقطاً۔