Book Name:Sulah ke Fazail
طہارت (یعنی صفائی) اور مسکینوں کی خوراک کا انتظام بھی ہو جائے۔([1])
ایکحدیثِ پاک میں ہے:جب تک صدقۂ فطر ادا نہیں کیا جاتا،بندے کا روزہ زمین و آسمان کے درمیان لٹکاہوارہتاہے۔([2])
اگر کسی کی طرف سے ابھی تک صدقۂ فطر کی ادائیگی نہیں ہوئی تو نمازِ عید سے فارغ ہوتے ہی صدقۂ فطر اداکر دیا جائے۔
فطرے کی ادائیگی 4 طرح سے ہوتی ہے
فطرے کی ادائیگی کے 4طریقے
صدقۂ فِطْر کی مقدار کے5 اعتبار ہیں : (1):عجوہ کھجور (2): کِشمِش (3):کھجور (4):جَو شریف یا اُس کا آٹا (5):گندم یا اُس کا آٹا ۔
صدقۂ فِطْر کی ادائیگی میں اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا چاہیے ، جسے اللہ پاک نے مال و دولت سے نوازا ہے ، اُسے چاہیے کہ * عجوہ کھجور کے اعتبار سے * کشمش کے اعتبار سے * جو یہ نہ کرسکتا ہو تو کھجور کے اعتبار سے * جو اتنی طاقت نہ رکھتا ہو ، وہ جَو شریف کے اعتبار سے *اور جو اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو ، وہ گندم کے اعتبار سے ادائیگی کرے۔ جتناگُڑْ ڈالیں گے، اتنا میٹھا ہو گا یعنی راہِ خُدا میں جتنا زیادہ خرچ کریں گے ، اتنا ہی ثواب ملے گا اور اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! زیادہ برکتیں نصیب ہوں گی۔