Book Name:Sulah ke Fazail
مجھے راضی کر دیا اور میں بھی تم سے راضی ہو گیا۔([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! یقینا! آج خُوشی کا دِن ہے اور آج کے دِن ہمیں خُوشی کا اِظْہار کرنا بھی چاہیے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: عِیْد کے دِن خُوشی کا اِظْہار کرنا مُسْتَحَبْ یعنی ثواب کا کام ہے۔([2]) لہٰذا عِیْد کے دِن خوشی ضرور منانی چاہیے۔ البتہ! خوشی منانے کا انداز وہ اَپنائیں جو شیطان کو راضی کرنے والا نہیں بلکہ رَبِّ رحمٰن کو راضی کرنے والاہو۔
ہر طرح کی جائِز خوشی منانے کی 2شرائط ہیں: (1): خوشی بطورِ شکر منائی جائے، بطورِ شیخی اور تکبر نہ منائی جائے۔ جیسے آج عید کا دِن ہے تو آج خوشی منائی جائے کیوں؟ اس لیے کہ اللہ پاک نے ہمیں مَغْفِرت و بخشش کا مہینا رمضان کریم عطا فرمایا، اس لیے کہ آج کے دِن رَبِّ رحمٰن کی رحمت جوش پر ہوتی ہے، لاکھوں لاکھ لوگوں کی بخشش کی جاتی ہے۔ اس لیے خوشی منائیں، اگر شیخی اور تکبر کے طور پر خوشیاں منائیں گے تو یہ خوشی خوشی نہیں بلکہ آخرت میں وبال بن سکتی ہے (2):دوسری شرط یہ کہ خوشی جائِز طریقے سے منائی جائے، ناجائِز طریقے سے خوشی منانا حرام ہے۔ جیسے خوشی میں ناچ گانا شروع کر دینا، خوشی میں شراب پینا، خوشی میں اِسْراف اور فضول خرچی کرنا۔([3])
ہمیں چاہیے کہ ہم خوشیاں منائیں، ضرور منائیں مگر خوشی منانے کی شرائط کا لحاظ