Book Name:Sulah ke Fazail
ایک حدیثِ پاک ہے: اَلسَّابِقُ السَّابِقُ اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی صلح میں پہل کرنے والا جنّت کی طرف سبقت کرنے والا ہے۔
اے ابوہریرہ! میں پسند نہیں کرتا کہ بڑے بھائی جان سے پہلے جنّت کی طرف بڑھوں، اس لیے مُنتَظِر ہوں کہ وہ پہل فرمائیں۔ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے یہ بات سُنی تو امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، انہیں ساری بات بتائی، میری عرض سُنتے ہی امام حَسَن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ عنہ تشریف لائے اور امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ کو گلے لگا لیا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیسا پیار بھرا اَنداز ہے...!! خیر! یہ بڑوں کی بڑی باتیں ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم صلح میں پہل کریں اور جنّت کے حقدار بن جائیں۔
حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑنے کی فضیلت
ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ بھی ہوتا ہے، شیطان دِل میں وَسْوَسَہ ڈالتا ہے کہ آخر میں صلح کی طرف کیوں بڑھوں، غلطی تو اُس کی تھی، اسے چاہیے کہ صلح کرے، مجھ سے معافی مانگے۔ اس مسئلے کا حل بھی حدیثِ پاک میں موجود ہے۔ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو شخص ناحق بات پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لیے جنّت کے کنارے میں گھر بنایا جائے گا اور جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑدے اس کے لیے جنّت کے درمیان میں گھر بنایا جائے گا۔([2])