Book Name:Sulah ke Fazail
یعنی جس کی غلطی ہو اور صلح کرلے، اس کے لیے جنّت کے کنارے پر گھر بنایا جائے گا اور جس کی غلطی نہ ہو، حق پر ہو، وہ اگر جھگڑا چھوڑ دے تو اس کے لیے جنّت کے درمیان میں گھر بنایا جائے گا۔
اب ایک اور مسئلہ ہے، وہ یہ کہ ہم نے تَو ذِہن بنایا کہ میں صلح کر لُوں گا، سامنے والا ہی صلح کے لیے تیار نہیں ہوتا تو...؟ اس کا حل بھی حدیثِ پاک کی روشنی میں سنیے! محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
فَاِنْ مَرَّتْ بِہِ ثَلاثٌ فَلْیَلْقَہُ فَلْیُسَلِّمْ عَلَیْہِ فَاِنْ رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَکَا فِی الْاَجْرِ وَ اِنْ لَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ فَقَدْ بَاء بِالْاِ ثْمِ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْہِجْرَۃِ
ترجمہ: اگر 3دن گزر جائیں تو اس کو چاہیے کہ اپنے بھائی سے مل کر سلام کرے اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو(صلح کے)ثواب میں دونوں شریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گنہگار ہوا اور سلام کرنے والا ترک ِتعلقات کے گناہ سے بَری ہوگیا۔([1])
ایک حدیثِ پاک میں فرمایا: 3مرتبہ سلام کرے (یعنی صلح کی 3کوششیں کرے) اگر سامنےوالا پِھر بھی صلح پر راضِی نہیں ہوتا تو اب اس ناراضِی کا گُنَاہ صلح نہ کرنے والے پر ہو گا، صلح کی طرف بڑھنے والا اِس گُنَاہ سے بَرِی ہو گیا۔([2])