Book Name:Sulah ke Fazail
نُقصانات بیان کیے جائیں ۔ ظاہری صورت کو سُنَّتوں کے سانچے میں ڈھالنے اور سَنوارنے کے ساتھ ساتھ اپنے باطِن کو بھی سَنوارنے اور اس کی اِصلاح کرنے کاذہن دیاجائے۔ فریقین کے جَذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے انہیں اس طرح سمجھائے کہ اگر آپ کو ان سے تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی آپ سے رَنج پہنچا ہو گا ۔ ہم اس دُنیا میں ایک دوسرے کو رَنج وغم دینے اور جُدائیاں پیدا کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو آپس میں اِتفاق و محبت کے ذَریعے جوڑ پیدا کرنے کے لیے آئے ہیں
جہاں تک ہو سکے کسی فریق کو دوسرے کے خِلاف بولنے نہ دے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ، جب ایک بولے گا تو دوسرا بھی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے بولے گا، یوں آپس میں بحث و مباحثہ ہو کر بسا اوقات بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے اور پھر ان کے دَرمیان صلح کروانا اِنتہائی مُشکل ہو جاتا ہے ۔([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
مکاشفۃُ الْقُلوب میں ہے: عید والے دِن 300 بار سُبْحٰنَ اللہ وَ بِحَمْدِہٖ پڑھ کر تمام فوت شُدہ مسلمانوں کو ایصالِ ثواب کر دیا جائے، اس کی برکت سے ہر مسلمان کی قبر میں 1000 اَنْوار داخِل ہوں گے اور جب پڑھنے والا قبر میں جائے گا تو اس کی قبر میں بھی 1000 اَنْوار داخِل ہوں گے۔ اللہ پاک ہمیں عَمَل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ