Sulah ke Fazail

Book Name:Sulah ke Fazail

غلط فہمی کو سوچ سوچ کر ہم بہت بڑا بنا دیتے ہیں بلکہ حالات تو ایسے ہیں کہ ذرا سی غلط فہمی ہو جائے تو گُنَاہوں کا دروازہ کُھل جاتا ہے*کبھی اِس کو بتا*کبھی اُس کو بتا*اِدھر اُدھر بیٹھ کر غیبتیں کی جاتی ہیں، مثلاً دیکھا: فُلاں ایسا ہے، اس نے میرے ساتھ یُوں کیا، فُلاں بدل گیا ہے، فُلاں بہت بےوفا نکلا ہے، وغیرہ وغیرہ۔اس سے نفرتیں مزید بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اگر خدانخواستہ اپنے مسلمان بھائی کے مُتَعَلِّق  کوئی بات دِل میں آ بھی جائے تو سامنے والے کے ساتھ بیٹھ جائیں، بات کر لیں۔ غلط فہمی ہو گی تو دُور ہو جائے گی، غلطی ہو گی تو سامنے والا معذرت کر لے گا۔

غلط فہمی دُور ہو گئی

مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت اَبُوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہ عنہ کے دورِ خِلافت کی بات ہے، ایک مرتبہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ دِیوار کے سائے میں بیٹھے کسی گہری سوچ میں گم تھے۔

حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ کی کیفیت کچھ ایسی تھی، ہر چیز سے بےنیاز بس اپنی ہی سوچ میں گم تھے۔ اسی دوران مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ کا یہاں سے گزر ہوا، آپ نے گزرتے گزرتے حضرت عثمان رَضِیَ اللہ عنہ کو سلام کیا مگر وہ تو اپنی ہی سوچوں میں تھے، انہیں نہ فاروقِ اعظم کے گزرنے کی خبر ہوئی، نہ سلام کا پتا چلا، لہٰذا

جو ہوش میں نہ ہو، وہ کیا نہ کرے

جب آپ کو سلام کا اِحساس ہی نہ ہوا تو آپ نے جواب بھی نہ دیا۔یہ بات حضرت