Book Name:Sulah ke Fazail
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ جب ہم سے صلح کی جائے تو ہمیں بھی بڑے پَن کا مظاہَرہ کرتے ہوئے صلح صفائی کر لینی چاہیے۔ بعض لوگ بہت سخت مزاج ہوتے ہیں، اُن کی منتیں کرو، صفائیاں دو، معذرت کرو، وہ راضِی ہونے پر آتے ہی نہیں ہیں۔ ایسا مزاج کسی مسلمان کا نہیں ہوتا۔ حدیثِ پاک میں اِرْشاد ہوا:
اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَبِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ
ترجمہ: کیا میں تمہیں ایسے شخص کے مُتَعلِّق نہ بتاؤں! کہ جو جہنّم پر حرام اور جہنّم اُس پر حرام ہے۔
یعنی دونوں جانِب سے جہنّم حرام ہے، نہ وہ جہنّم تک پہنچے گا، نہ جہنّم اُس تک پہنچ سکے گی۔ وہ شخص کون ہے؟ فرمایا:
عَلَى كُلِّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ
ترجمہ: ہر نَرْم طبیعت، نرم زبان، لوگوں سے قریب رہنے اور معاف کرنے والا۔ ([1])
پتا چلا؛ جو نَرْم طبیعت ہو، جسے منانا آسان ہو، ایسے خوش نصیب مومن پر جہنّم حرام ہو جاتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں توفیق بخشے۔ کاش! ہم ایسے ہی بن جائیں۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔