Book Name:Bila Hisab Jannat Delane Wale Aamal
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([1])
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
روایت ہے: قیامت والے دن ایک شخص کو اُس کا اَعمال نامہ دیا جائے گا، وہ عَرْض کرے گا: مولیٰ! اِس میں جو کچھ لکھا ہے، میں نے یہ نہیں کیا، اس پر کِراماً کَاتِبِیْن (یعنی اَعْمَال لکھنے والے فرشتوں) کو لایا جائے گا، بندہ عَرْض کرے گا: مولیٰ! یہ فرشتے ہیں، یہ تیرے حکم کے پابند ہیں، میں وہی گواہ قبول کروں گا جو مجھ سے ہوں۔ اللہ پاک اُس بندے کی زبان کو حکم دے گا: میری قُدْرت سے بول! اور حق کے سِوا کچھ مت کہنا۔ بندے کی زبان اُس کے تمام اچھے بُرے اَعْمَال بیان کر دے گی۔ بندہ پھر عَرْض کرے گا: مولیٰ! یہ زبان ہی تو ہے جو اَکْثَر گُنَاہ کرواتی ہے، یہ تو ویسے ہی میری دُشمن ہے، میرے خِلاف میرے دُشمن کی گواہی کیسے مُعْتبر ہو سکتی ہے؟
اب اللہ پاک بندے کے ہاتھوں کو حکم فرمائے گا: اِنْطِقَا بِمَافَعَلَ عَبْدِی یعنی(اے اس بندے کے ہاتھو!) بتاؤ میرے بندے نے کیا کیا عَمَل کئے ہیں؟ اُس کے ہاتھ سب کچھ سچ سچ بیان