Bila Hisab Jannat Delane Wale Aamal

Book Name:Bila Hisab Jannat Delane Wale Aamal

کو رحمٰن کی طرف مہمان بنا کرلے جائیں گے ۔

آخرت کی تقسیم تقویٰ پر کی گئی ہے

سُبْحٰنَ اللہ !مَعْلُوم  ہوا؛ تقویٰ کی برکت سے بِلاحساب جنّت میں داخلہ نصیب ہو جائے گا۔ تَصَوُّف کی مشہور کتاب  رِسَالَہ قُشَیْرِیَہ میں ہے، حضرت شیخ کَتَّانِی  رَحمۃُ اللہ  عَلَیْہ    فرماتے ہیں: دُنیا کی تقسیم آزمائش پر کی گئی ہے اور آخرت کی تقسیم تقویٰ پر کی گئی ہے۔([1])  یعنی دُنیا میں عِزَّت، مرتبہ ومقام، بلندی، ترقی، کامیابی اُسے ملتی ہے جو زیادہ محنت کرتا ہے جبکہ آخرت میں بلند درجات، زیادہ عِزَّت(Honour)، زیادہ مقام ومرتبہ اسے ملے گا جو زیادہ تقویٰ والا ہو گا۔ چنانچہ پارہ: 12، سورۂ ہُود، آیت نمبر 49 میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠(۴۹) (پارہ12،سورۂ ہود:49)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک اچھاانجام پرہیز گاروں کے لیے ہے۔

ایک مقام پر اللہ  پاک جنّت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:

اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳) (پارہ4،سورۂ ال عمران:133)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:وہ پرہیز گاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

سُبْحٰنَ اللہ !مَعْلُوم  ہوا اللہ  پاک نے جنَّت بنائی ہی اَہْلِ تقویٰ کے لیے ہے، لہٰذا جو زیادہ مُتَّقِی ہو گا، اسے جنّت میں زیادہ بلند درجات نصیب ہوں گے، اسے  زیادہ نعمتیں ملیں گی۔

تقویٰ کیا ہے؟

تقویٰ کسے کہتے ہیں؟ یہ بھی سمجھ لیجیے! ایک روز مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ  حضرت


 

 



[1]...رسالہ قشیریہ، باب التقویٰ، صفحہ:142۔