Book Name:Bila Hisab Jannat Delane Wale Aamal
انہیں سلام کرنا* ان کی ملاقات کو جانا* ان کے پاس اُٹھنا بیٹھنا*ان سے بات چیت کرنا* ان کے ساتھ لُطف و مہربانی سے پیش آنا۔ ([1])
اللہ پاک اسے توڑ دیتا ہے
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں ہر صُورت اپنے رشتے داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے رہنا چاہیے۔ آج کل لوگ بات بات پر تَعَلُّقاتتوڑ دیتے ہیں* فُلاں نے بیٹے کی شادِی (Wedding)پر نہیں بُلایا، لہٰذا اس کے ساتھ مرنا جینا ختم...!! * فُلاں نے گھر بُلا کر خاطرخواہ عزّت(Honour)نہیں دی، لہٰذا آج سے اس کے ساتھ ہمارا کوئی تَعَلُّق نہیں* فُلاں رشتے دار نے میری دُکان کی بجائے ساتھ والی دُکان سے سودا خریدا، لہٰذا اس کے ساتھ بول چال بند، بالکل چھوٹی چھوٹی باتوں پر مرنا جینا ختم کیا (یعنی رشتہ توڑا) جا رہا ہوتا ہے حالانکہ جن رشتے داروں کے ساتھ صِلۂ رَحمی کا حکم ہے یعنی رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم ہے، ان کے ساتھ رشتہ توڑ دینا، سخت گُنَاہ کا کام ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: جو رشتے توڑتا ہے، اللہ پاک اسے توڑ ڈالتا ہے۔ ([2])
ایک سُوال ہمارے ہاں بہت عام ہے، وہ یہ کہ میرے رشتے دار جب میرے ساتھ ٹھیک نہیں چلتے، وہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تو آخر میں اُن کے ساتھ نیک سلوک کیوں کروں؟ یہ عموماً ذہنوں میں اُٹھنے والا خیال ہے۔ اِس تَعَلُّق سے ایک حدیثِ پاک سنیے! حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں