Book Name:Bila Hisab Jannat Delane Wale Aamal
فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا(۱۴۹) (پارہ:6، سورۂ نساء:149)
کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت والا ہے۔
یعنی اگر تم کوئی نیک کام اِعلانیہ کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو یہ افضل ہے،کیونکہ اللہ پاک سزا دینے پر ہر طرح سے قادر ہونے کے باوجود اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر کرتا اور انہیں معاف فرماتا ہے۔لہٰذا تم بھی اپنے اوپر ظلم وستم کرنے والوں کو معاف کر دو اور لوگوں کی غلطیوں سے درگزر کرو۔ ([1])
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے عرض کی:اے میرے ربّ!تیرے بندوں میں سے کون تیری بارگاہ میں زیادہ عزّت والا ہے؟الله پاک نے ارشاد فرمایا:وہ بندہ جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کر دے۔([2])
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صَلَّی اللہ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: جو 3 باتوں پر عمل کرے گا تو اللہ پاک اُس کے حساب میں آسانی فرمائےگا اور اُس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا۔عرض کی: یارسولَ اللہ ! صَلَّی اللہ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،وہ کون سے 3 اعمال ہیں؟ نبی پاک صَلَّی اللہ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلَّم