Book Name:Bila Hisab Jannat Delane Wale Aamal
سچے نبی،رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:جب قیامت کے دن بندے حساب دینے کھڑے ہوں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا:وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جن کا اجر اللہ پاک کے ذِمَّہ ہے اور جنّت میں داخل ہوجائیں۔ پوچھا جائے گا:وہ کون ہیں جن کا اجر اللہ پاک کے ذِمَّہ ہے؟ کہا جائے گا: لوگوں سے درگزر کرنے والے۔یہ سُن کر ہزاروں لوگ کھڑے ہوں گے اور بغیر حساب جنّت میں داخل ہوجائیں گے۔([1])
مُعاف فضل و کرم سے ہو ہر خطا یاربّ! ہو مغفِرت پئے سلطانِ اَنبیا یاربّ!
بِلا حساب ہو جنّت میں داخِلہ یاربّ! پڑوس خُلد میں سَرور کا ہو عطا یاربّ! ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ لوگوں کو مُعَاف کرنا بِلاحساب جنّت دِلانے والا عَمَل ہے۔ افسوس! آج کل اس نیکی کو اپنانے والے بہت کم لوگ نظر آتے ہیں۔ غصّہ، بُغض، کینہ (یعنی دِل میں دُشمنی چھپائے رکھنا) بہت عام ہے۔ دوسروں کی ذرا ذرا سی غلطی پر تَعَلُّق توڑ دئیے جاتے ہیں، دِل میں باتیں رکھی جاتی ہیں اور بدلے لیے جاتے ہیں۔ کاش! ہمیں توفیق ملے، ہم دوسروں کو معاف کرنے والے بن جائیں۔
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ