Share this link via
Personality Websites!
پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔
اللہُ اکبر! معلوم ہوا؛ نصیحت کی باتیں بے تَوَجُّہی سے سُننا، غافِل دِل کے ساتھ سُننا غیر مسلموں کا طریقہ ہے۔ اللہ پاک ہمیں توفیق عطا فرمائے، کاش! ہم خُطبہ تَوَجُّہ کے ساتھ اور سمجھ کر سُننے والے بن جائیں۔
مَاشَآءَ اللہ ! اللہ پاک تمام صحابہ و اَہْلِ بیت پر کروڑوں رحمتوں کا نُزول فرمائے، خُطبہ تو یہ حضرات سُنا کرتے تھے۔ روایات میں ہے: اِذَا تَكَلَّمَ اَطْرَقَ جُلَسَاؤُهُ كَاَنَّمَا عَلٰی رُءُوْسِهِمُ الطَّيْرُیعنی مَحْبوبِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم جب کلام فرماتے تو صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان گردنیں جُھکا کر خاموش بیٹھ جاتے، حالت یہ ہو جاتی کہ گویا اُن کے سروں پر پَرندے بیٹھے ہیں۔([1])
پَرندے کی عادَت ہوتی ہے، ذرا حرکت دیکھے تو اُڑ جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان بالکل آرام سُکون کے ساتھ یُوں بیٹھ جاتے تھے گویا یہ بےجان ہیں، معمولی سی بھی حرکت نہیں ہوتی تھی۔ ساری تَوَجُّہ مَحْبوبِ ذیشان صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی طرف لگا دیا کرتے تھے۔
صحابہ ءکرام اور اِطاعتِ مُصطفےٰ
اور رَہی بات پَیروی کرنے کی، اِس میں بھی صحابہ بےمثال ہیں۔ ایک مرتبہ رسولِ
[1]...شمائل محمدیہ، باب ما جاء فی خلق رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ، صفحہ:136، حدیث:358۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami