Book Name:Musalman Ki Izzat Kijiye
رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے دوسراسوال کیا : اَیُّ بَلَدٍ ہٰذَا ؟ یہ کون سا شہر ہے ؟ ( یہ بھی بالکل واضِح بات تھی ، حج مکے ہی میں ادا کیا جاتا ہے مگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس بار بھی ادب کرتے ہوئے ) عرض کیا : اللہ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پیارے نبی ، رسولِ ہاشمی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اَلَیْسَ الْبَلَدَۃَ ؟ کیا یہ بَلَدَہ ( یعنی مکہ مکرمہ ) نہیں ہے ؟ سب نے عرض کیا : کیوں نہیں ( بالکل یہ مکہ مکرمہ ہی ہے ) ۔ رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے تیسرا سوال کیا : اَیُّ یَوْمٍ ہٰذَا ؟ یہ کونسا دِن ہے ؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اس بار بھی ادباً کہا : اللہ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ رسولِ خُدا ، احمدِ مجتبیٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ؟ کیا یہ یومُ النَحْر نہیں ہے ؟ سب نے عرض کیا : کیوں نہیں ، ( یہ یومُ النحر یعنی قربانی ہی کا دِن ہے ) ۔
اب رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسَّم صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بےشک جیسے اس دِن کی ، اس شہر اور اس مہینے میں حُرْمت و عزّت ہے ، تمہارے خُون ، تمہارے مال اور تمہاری عزّتیں ایسے ہی ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ ( [1] )
حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : حدودِ حرم میں جیسے نیکی ایک کی ایک لاکھ بن جاتی ہے ، ویسے ہی گُنَاہ بھی ایک کا لاکھ ہے ، اس لئے حُضور صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جیسے یہاں کا گُنَاہ دوسرے مقامات کے گُنَاہ سے سخت تَر ہے ، ایسے ہی مسلمان کے خون ، مال ، آبرُو ظلماً برباد کرنا سخت تَر ہے۔ ( [2] )