Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف ( ترجمہ : میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی )
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ، مولائے کائنات ، حضرت علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تعالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: اللہ پاک نے جَنَّت میں ایک دَرخت پیدا فرمایا ہے جس کا پَھل سیب سے بڑا ، اَنار سے چھوٹا ، مَکھن سے نرم ، شہد سے بھی میٹھااورمُشک سے زِیادہ خُوشْبُودار ہے۔ اس دَرخت کی شاخیں تر موتیوں کی ، تنے سونے کے اور پَتے زَبَرجَد کے ہیں ۔ لَا یَاْکُلُ مِنْہَا اِلَّا مَنْ اَکْثَرَ مِنَ الصَّلَاۃِ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم اس دَرخت کا پَھل صِرف وہی کھا سکے گا جوسرکارِ والا تَبار ، حبیبِ پَرْوَرْدْگار صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم پرکثرت سے درودپاک پڑھے گا۔ ( [1] )
وہ تو نہایت سَسْتا سودا بیچ رہے ہیں جَنَّت کا ہم مُفْلِس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے ( [2] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
حدیثِ پاک میں ہے : اَلنِّیَّۃُ الْحَسَنَۃُ تُدْخِلُ صَاحِبَہَا الْجَنّۃَ اچھی نیت بندے کو جنت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami