Share this link via
Personality Websites!
الجنان پڑھیئے ، قرآنِ مجید کو سمجھئے اور دیکھئے اللہ پاک نےپارہ 8 ، سُوْرَۂ اَعْرَاف میں ، پارہ 19 ، سُوْرَۂ شُعَرَاء میں اور کئی مقامات پر کافِر قوموں کا ذِکْر کیا ، ان پر عذاب آئے ، قومِ عاد نے کفر کیا ، ان پر عذاب آیا ، ان کی بستی میں آیا ، قومِ ثمود نے کفر کیا ، ان پر عذاب آیا ، ان کی بستی میں آیا ، قومِ لوط نے کفر کیا ، ان پر عذاب آیا ، ان کی بستی میں آیا لیکن فِرْعون پر عذاب اس کی بستی میں نہیں آیا ، اسے شہر سے نکال کر دریا میں غرق کیا گیا۔ عُلمائے کرام نے اس کی حکمتیں لکھی ہیں ، ایک حکمت یہ ہے کہ مِصْر بابرکت جگہ ہے ، یہاں حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلام اور آپ کے گیارہ بھائی جو اللہ کے ولی ہیں ، ان کے مزارات ہیں ، ان کی برکت سے مِصْر کو برباد نہ کیا گیا بلکہ وہاں رہنے والے کافِروں کو نکال کر دریا میں غرق کیا گیا۔ قرآن مجید پڑھیئے ، پارہ 9 ، سُوْرَۂِ اَعْرَاف میں اللہ پاک نے فرعون کے غرق ہونے کا واقعہ ذِکر کیا ، اس کے بعد بتایا کہ بنی اسرائیل جنہیں فرعون نے زبردستی اپنا غلام بنایا ہوا تھا ، اللہ کریم نے انہیں زمینِ مصر کے مشرق ومغرب کا مالِک بنا دیا ، ارشاد ہوتا ہے :
وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ-
(پ9 ، الاعراف : 137)
ترجمہ کنز العرفان : اور ہم نے اس قوم کو جسے دَبَایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی
مشہور مفسرِ قرآن ، مفتی اَحْمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں : مِصْر بربادی سے محفوظ رہا کیونکہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلام کی اولاد جو اولیاء اللہ ہیں ، ان کے مزارات مِصْر میں ہیں۔ ([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami