Share this link via
Personality Websites!
ہو جائیں۔ حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : اللہ پاک اپنے اولیا کو ہمیشہ آزمائشوں میں رکھتا ہے تاکہ ان کے دِل ہمیشہ اللہ پاک کی طرف متوجہ رہیں ، ان پر کبھی غفلت طاری نہ ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک ان سے محبت فرماتا ہے اور یہ اللہ پاک سے محبت کرتے ہیں۔ ([1])
حضرت وہب بن مُنَبَّہ رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ سے روایت ہے : دو عبادت گزار 50سال تک اللہ پاک کی عبادت کرتے رہے ، پچاسویں سال کے آخر میں ایک عبادت گزار کو ایک خطرناک جسمانی بیماری لگ گئی ، اس عبادت گزار نے روتے ہوئے بارگاہِ اِلٰہی میں التجاکی : اے میرے پاک پروردگار! میں نے اتنے سال مسلسل تیرا حکم مانا ، تیری عبادت کرتا رہا ، پھر بھی مجھے اتنی خطرناک بیماری میں مبتلا کر دیا گیا ، اس میں کیا حکمت ہے؟
اللہ پاک نے فرشتوں کو حکم فرمایا : اس سے کہو! تُو نے جو عبادت و ریاضت کی ہے ، وہ ہماری ہی عطا کردہ توفیق سے ہے ، وہ ہمارے احسان کا نتیجہ ہے ، باقِی رہی بیماری تو اس میں تجھے اس لئے مبتلا کیا گیا ہے تاکہ تجھے نیک لوگوں کے مرتبے پر فائِز کر دیا جائے۔ ([2])
میری مشکلیں گر تِرا امتحاں ہے تَو ہر غم قسم سے خوشی کا سماں ہے
گُناہوں کی میرے اگر یہ سزا ہے تو پھر مشکلوں کو مٹا میرے مولیٰ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami