Share this link via
Personality Websites!
میں جلوہ گری سے پہلے کے زمانے(زمانۂ جاہلیت) میں عربوں میں بے حیائی اور بے شرمی عام تھی۔ مردوعورت کا میل جول ، عورتوں کے ناچ گانے سے لُطف اُٹھانا عام تھا۔ عرب کے بڑے بڑے شعراء عورتوں کی نازیبا حرکتوں اور اداؤں کا ذکر اپنی شاعری میں فخریہ کرتے تھے۔ اسی طرح بعض لوگ باپ کے مرنے پر مَعَاذَاللہ باپ کی بیوی یعنی اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کر لیتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی طرح طرح کی بے شرمی و بے حیائی کی رسمیں ان میں عام تھیں۔ اَلْغَرَض! جاہلیت کے معاشرے کا شرم و حیا سے دُور دُور کا بھی تعلق نہیں تھا۔
لیکن جب پیکرِ شرم و حیا ، جنابِ احمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ دنیا کو اپنی نورانی تعلیمات سے منور کرنے تشریف لائے تو آپ نے اپنی نگاہِ حیا دار سے ایسا ماحول بنایا کہ ہر طرف شرم و حیا کی روشنی پھیلنے لگی ، وہ معاشرہ (Society)جسے حیا چُھو کے بھی نہیں گزری تھی ، وہاں شرم و حیا کا سازگار ماحول پیدا ہونے لگا ، جہاں شرم و حیا کرنا عار سمجھا جاتا تھا اسی ماحول میں جنابِ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ جیسے لوگ پیدا ہونے لگے کہ جن کے بارے میں خود حبیبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : تَسْتَحِیْ مِنْہُ الْمَلَائِکَۃُ حضرت عثمان (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) سےآسمان کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami