Share this link via
Personality Websites!
ہرایک میں شیطانی چالیں اوردھوکہ بازیاں ہیں تو تجھے بیداررہنا لازم ہے۔ پس!اگر تجھے پتہ نہ چلےکہ تُو مخلص ہے یا رِیاکار توپھر تجھے اپنے نیک اعمال چھپانا ہی بہترہےکہ اس میں تیرے لیے کسی قسم کا نقصان نہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد
آئیے!ریاکاری کی آفت سےنجات پانےاورنیکیاں چھپانے کا ذہن بنانے کے لئے حضرت داؤد طائی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی سیرت کاایمان افروز واقعہ سنتے ہیں ، چنانچہ
چالیس سال نفل روزے رکھے مگر ...
حضرت داؤد طائی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ مسلسل چالیس (40) سال تک روزے رکھتے رہے مگر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کے اِخلاص کایہ عالَم تھاکہ اپنے گھر والوں تک کوخبر نہ ہونے دی۔ وہ اس طرح کہ کام پر جاتے ہوئےدوپہر کا کھانا(Lunch)ساتھ لے لیتےاور راستے میں کسی کو دے دیتے ، مغرب کے بعد گھر آکر کھانا کھا لیا کرتے۔ ([1])
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!اپنے نیک اعمال ، روزوں اورصدقہ و خیرات کو پوشیدہ رکھنے کےمتعلق حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کااِرشادہے : جب تم میں سے کسی ایک کاروزہ ہوتو وہ اپنے سر اور داڑھی میں تیل لگائے اور ہونٹوں پربھی ہاتھ پھیرے تاکہ لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ یہ روزہ دار ہے اور جب دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو اور جب نماز پڑھے تو اپنے دروازے پر پَر دہ ڈال دے۔ ([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami