Share this link via
Personality Websites!
کہ اس نے یہ خوبی اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ۔ پھر عمل کر لینے کے بعد خوف کی کیفیت طاری ہو کہ اس کا یہ عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول بھی ہوا ہے یا نہیں؟ جب عمل کی قبولیت کا علم ہی نہیں تو اس عمل کے بارے میں لوگوں کو بتانے اور دِکھانے کا کیا فائدہ؟ ہاں!اگروہ نیک عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہے تو اس کی جزا دینے والا پَروردگار اسے جانتا ہے لہٰذا اپنے مُنْہ سے اپنی خوبیوں اور نیکیوں کا اظہار کر کے اپنی جانوں کوستھرا نہ بتایا جائے کہ قرآنِ کریم میں اس کی مُمانعت بیان فرمائی گئی ہے ، چُنانچہ
پارہ27 سُوْرۃُالنّجم کی آیت نمبر32میں اِرشاد ہوتا ہے :
فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲)
ترجمۂ کنز العرفان : تو تم خود اپنی جانوں کی پاکیزگی بیان نہ کرو ، وہ خوب جانتا ہے اسے جو پرہیزگار ہوا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے!رِیا کاری گناہِ کبیرہ ، حرام اورجہنّم میں لےجانےوالاکام ہے ، اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناراضی کا باعث ہے اور اس کے سبب اعمال بھی بربادہوجاتے ہیں ، ریاکاروں کو بروزِ قِیامت حسرت ہوگی ، ریاکاری والاعمل اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا ، اسےرُسوائی کا عذاب دِیا جائے گا ، اس پر جنّت حرام ہے ، وہ جنّت کی خوشبو سےمحروم رہے گا ، اس پر لعنت کی گئی ہے اور اس کاآخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami