Share this link via
Personality Websites!
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!یاد رہے!نیکیوں کو حتَّی الْاِمکان پوشیدہ رکھنے ہی میں عافیت ہے مگر بعض صورتوں میں اچھی نیتوں کے ساتھ ان کے اِظہار کی بھی اجازت ہے ، مثلاً ایسا شخص جولوگوں کا پیشوا ہو ، لوگ اس سے عقیدت و محبت رکھتے ہوں اور نیک اعمال میں اس کی پیروی کرتے ہوں تو ایسے شخص کا لوگوں کی ترغیب کی نیت سے اپنے عمل کوظاہر کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے چُنانچہ
حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللّٰہ اِبنِ عُمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے روایت ہے : نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : پوشیدہ عبادت عَلانیہ عبادت سےافضل ہے اور جس کی لوگ پیروی کرتے ہوں اس کی عَلانیہ عبادت پوشیدہ عبادت سے افضل ہے۔ ([1])
اپنی ذات سےتہمت دورکرنےاورلوگوں کو بدگمانی سے بچانے کے لیےبھی اپنے عمل کو ظاہر کرنے کی اجازت ہے جیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے : اگر نیک عمل فرائض میں سے ہوتو فرائض کے حق میں سے یہ ہے کہ اس کا اِعلان اورتشہیرکی جائے۔ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عظیم ہے : اللہ پاک کےفرائض کو چھپانا نہیں چاہیے۔ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمّد
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!انسان کو چاہیے کہ اس کے اندر جو بھی خوبی ہو یا اسے کوئی بھی نیک عمل بجا لانے کی سعادت ملے تو اللہ پاک کا شکر ادا کرے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami