Share this link via
Personality Websites!
رِیاکاری کی تباہ کاری کے باعث برباد ہو جائے۔
اےعاشقانِ رسول !ہمیں یہ چاہیے کہ اپنے کسی بھی نیک کام کو حتی الامکان چھپائیں ، بِلا ضرورت کسی کو نہ بتائیں ، کیونکہ نیکیوں کا اِظہارکرنے سے انسان کی نیکیوں میں کمی ہوسکتی ہے ، نیکیوں کا اِظہارکرنے سے انسان کی نیکیاں بربادہوسکتی ہیں اورنیکیوں کا اِظہارکرنے سے انسان گناہ گاربھی ہوسکتاہے۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے ، نیکی کرکےاس کو چھپانامشکل ہےناممکن نہیں۔ یاد رہے!نیکی کرنے میں مشقّت ہوتی ہے ، لیکن نیکی چھپانےکی مشقّت ، نیکی کرنےکی مشقّت سے بھی زِیادہ ہے۔ جیساکہ
رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےارشادفرمایا : بے شک عمل کرکے اُسے رِیا کاری سے بچانا عمل کرنے سےزِیادہ مشکل ہے اور آدمی کوئی عمل کرتاہے تو اُس کے لیے ایسا نیک عمل لکھ دیا جاتاہے جو تنہائی میں کیا گیا ہوتا ہے اور اُس کے لیے ستّر (70) گنا ثواب بڑھا دِیاجاتاہے ، پھر شیطان بندےکو اُ کساتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اِس عمل کو لوگوں کےسامنے ظاہرکر دیتاہے تواب اُس کے لیے یہ عمل پوشیدہ کے بجائے اعلانیہ لکھ دیا جاتاہےاور ثواب میں ستّر (70)گنا اضافہ مٹا دِیا جاتاہے۔ شیطان پھر اِنسان کے ساتھ لگارہتاہے یہاں تک کہ وہ دُوسری مرتبہ لوگوں کے سامنے اُس عمل کا ذِکر کرتاہے اور چاہتاہے کہ لوگ بھی اِس کا تذکرہ کریں اور اس عمل پر اُس کی تعریف کی جائے تو اُسے اعلانیہ سے مٹا کر رِیاکاری میں لکھ دیا جاتاہے پس بندہ اللہ پاک سے ڈرے ، اپنے دِین کی حفاظت کرے اور بے شک رِیاکاری شرکِ اصغر ہے۔ (نیکیاں چھپاؤ ، ص22)
حضرت علامہ عبد الغنی نابلسی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب رِیا و اِخلاص میں سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami