Book Name:Hazrt e Abduallah Bin Mubbarak Or Ulama ki Khidmat

تجارت  مکمل کرلو۔ یوں حضرت عبدالله بن مبارکرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ نے علمِ  حدیث  کے لئے 80 ہزار  درہم خرچ کردیئے۔

 (بستان المحدثین ، 168)

      پیارے پیارے اسلامی بھائیو!سناآپ نے  کہ حضرت عبدالله بن مبارکرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہنےعلمِ دین اورعلمِ حدیث حاصل کرنے کے لیے 80ہزار درہم  خرچ کئے ، آپ کے والدِ گرامی کی علمِ دِین سے محبت ، نیکی کے کام پرسعادت مند بیٹے کی حوصلہ افزائی کے جذبے کوبھی لاکھوں سلام۔

      یہاں ہمارے لیے بھی مدنی پھول ہے کہ حضرت عبدالله بن مبارک رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ نے اتنی بڑی رقم کو فضولیات میں خرچ نہیں کیا ، اللہ پاک کی نافرمانی والے کاموں میں خرچ نہیں کیا ، بلکہ خرچ کیاتوعلمِ دِین سیکھنے میں خرچ کیا ، کیونکہ یہ جانتے تھے کہ اِس خرچ پریقیناً نفع ہی نفع ہے ، اس میں نقصان کا پہلو تو ہے ہی نہیں۔

       اس کےبرعکس ہم اپنے آپ پر غورکریں کہ اتنی بڑی رقم اگرہمارے  ہاتھ لگ جائے تو نہ جانے  کیسے کیسے خیالات ہماری دِلی کیفیت کو ہی بدل دیں۔

        افسوس صد افسوس! فی زمانہ تو اکثر والدین  اپنے بچوں کو دنیاوی  تعلیم دِلوانے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ اسکول میں داخل کروانے کی کوشش کرتے ہیں ، آج ہم ٹیوشن کی بھاری  فیسیں  دے کراپنے بچوں  کو دنیاوی علوم پڑھاتے ہیں  ، آج ایک تعداد ہے جس کے بچوں کو انگلش  بولنی اور پڑھنی تو آتی ہے  مگر قرآن دیکھ کر پڑھنا بھی نہیں  آتا۔ آج ہمارے بچےلاکھوں کاحساب کتاب کرنےمیں تو ماہر ہیں لیکن بے چاروں کونمازوں کی رکعتیں نہیں آتیں ، آج ہمارے بچوں کوسائنس دانوں کے نام تو آتے