Book Name:Hazrat Sayyiduna Talha bin Ubaidullah ki Sakhawat

ادنیٰ دَرَجہ یہ ہے کہ صرف فرض پر قناعت نہ کرے، نفلی صدقے بھی دے۔حقیقت و معرفت والوں کے ہاں اِس کا ادنی دَرَجہ یہ ہے کہ اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دے ۔([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                        صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یاد رکھئے! جس طرح راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا، اِنْسان کی اپنی ذات کے لئے مُفید ہے، اسی طرح بُـخْل سے کام لینا بھی اُس کی اپنی ہی ذات کے لئے خَسارے کا باعِث ہے ۔نیکی کے کاموں کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے سخی بندوں کو چُن لیتا ہے، جو دل کھول کر راہِ خدا میں خَرْچ کرتے ہیں اور خُوب خُوب صَدَقہ و خَیْرات کرتے اور ضرورت مند لوگوں  پر سخاوت کے دریا بہاتے ہیں، مگر اس کے باوُجُوْد اُن کے کاروبار  اور  مال میں حیرت انگیز طور پر ترقّی و برکت  ہی ہوتی چلی جاتی ہے۔جبکہ کَنْجُوس کا حال یہ ہوتا ہے کہ کثیر مال و دولت کے  باوُجُوْد اُسے اپنا مال کم لگتا ہے، جس کی وجہ سے وہ صَدَقاتِ واجِبہ و نافِلہ کی اَدائیگی کرنے،نیکی کے کاموں میں خَرْچ کرنے اور مَخْلوقِ خُدا کی مدد کرنے سے زندگی بھر کتراتا رہتا ہے کہ کہیں میرے مال میں کمی واقع نہ ہوجائے۔بالآخر ایک دن مَوْت کا فرشتہ اُس کے پاس آجاتا ہے اور اُس کی مَوْت کے بعد اُس کا سارا مال اُس کے وُرَثاء کے پاس چلا جاتا ہے۔آئیے اِس ضِمْن میں دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطبوعہ 410 صَفْحات پر مُشْتَمِل کتاب ”عُیُونُ الحکایات“ (حِصّہ اوّل)کے صَفْحہ 74سے کَنْجُوسی کے اَنْجام کے بارے میں ایک عِبرتناک حِکایت سُنتے ہیں۔چُنانچہ

کَنْجُوسی کا اَنْجام

 حضرت سَیِّدُنا یزید بن مَیْسَرہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں:ہم سے پہلی اُمّتوں میں ایک شَخْص  تھا، جس نے بہت زیادہ مال و مَتاع جمع کِیا ہوا تھا اور اُس کی اَوْلاد بھی کافی تھی ، طر ح طر ح کی نعمتیں اُسے مُیَسَّرتھیں، کثیر مال ہونے کے باوُجُوْد وہ انتہائی کَنْجُوس تھا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی راہ میں کچھ بھی خَرْچ نہ


 

 



[1]مرآۃ المناجیح، ۳/۹۱بتغیر قلیل