کتابِ زندگی

مزہ نہ آئے تو؟

* مولاناابورجب محمد آصف مدنی

ماہنامہ مارچ2021

استاذ صاحب سبق پڑھا کر فارغ ہوئے تو پیریڈ ختم ہونے میں کچھ ٹائم باقی تھا ، طلبہ نے موقع پا کر سوالات شروع کردئیے ، ایک نے سوال کیا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں یا کوئی کام کرتے ہیں تو اگر ہمیں مزہ   اور لُطف نہ آئے تو ہم وہ کام چھوڑ دیتے ہیں ، ایسا کیوں ہوتا ہےاور اس کا حل کیا ہے؟

استاذ صاحب نے جواب دینا شروع کیا : دراصل یہ صرف آپ کا پرابلم نہیں ہے بلکہ دنیا میں رہنے والے بہت سارے لوگ کسی کام کوکرنے یا نہ کرنے کی بنیاد مزے کو بناتے ہیں ، یہ درست معیار نہیں ہے ، میں اس کی وضاحت پوائنٹس کی صورت میں کرتا ہوں :

پہلی بات : لوگ بہت سارے گناہ صرف اس لئے کررہے ہوتے ہیں کہ انہیں اس میں مزہ آرہا ہوتا ہے ، جیسے سینما میں فلم دیکھنا ، میوزک کنسرٹ میں شریک ہونا ، مرد و عورت کا ایک ساتھ ڈانس پارٹیوں میں ناچنا ، شراب پینا ، بدکاری کرنا ، بدنگاہی کرنا وغیرہ ۔  آپ غور کیجئے کہ اس قسم کا شیطانی مزہ دنیا و آخرت میں خسارے (نقصان) کا سبب ہے کیونکہ اس سے ہمارا خالق اور مالک اللہ پاک ناراض ہوتا ہے اور ربِّ قدیر کو ناراض کر کے ہمیں کہیں پناہ نہیں مل سکتی! لہٰذا دل چاہے نہ چاہے ، یہ مزہ چھوڑنا ہی ہوگا۔ حضرت سیدناابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ    صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : آگ(جہنّم) خواہشات سے گھیردی گئی ہے اور جنّت تکالیف سے گھیر دی گئی ہے۔ (بخاری ، 4 / 243 ، حدیث : 6487)

دوسری بات : اسی طرح کئی مسلمان فرض عبادتیں اس لئے بھی نہیں کرتے کہ انہیں ان میں مزہ نہیں آتا ، ایسے لوگ نمازیں ترک کردیں گے ، رمضان کے روزے چھوڑ دیں گے ، زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے ، یا د رکھئے! مزہ نہ آنے کی وجہ سے فرض عبادتیں معاف نہیں ہوجاتیں بلکہ فرائض کی ادائیگی میں دل کو لگانا ہی ہوگا ، شروع شروع میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے ، لیکن اگر یہ لوگ اپنے اللہ کو راضی کرنے کے لئے نفس وشیطان کے مقابلے میں ڈٹے رہیں گے تو ایک وقت آئے گا کہ یہ مسلسل عبادت کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور انہیں عبادت میں رُوحانی مزہ آنا شروع ہوجائے گا۔ بات صرف اپنا Taste درست کرنے کی ہے ، آپ بزرگانِ دین کے حالاتِ زندگی پڑھئے کہ وہ ایسے ذوق و شوق کے ساتھ عبادت کیا کرتے تھے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ چنانچہ تیسری صدی ہجری کے بُزرگ حضرت سیّدنا سہل بن عبد اللہ رحمۃُ اللہ علیہ اس قدر کمزور ہوگئے تھے کہ اپنی جگہ سے اُٹھ نہیں سکتے تھے مگر جب نماز کا وقت آتا تو شوقِ نماز کی بدولت ان کی قوت لَوٹ آتی اور وہ لوہے کی سلاخ کی طرح سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب نماز سے فارِغ ہوتے تو پھر سے پہلی کمزوری کی حالت میں آجاتے اور اپنی جگہ سے اُٹھ نہ سکتے تھے۔ (کتاب اللمع فی التصوف(مترجم) ، ص732)اللہ ہمیں ان کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اٰمین ۔

تیسری بات : کچھ لوگ غیر اہم اور فضول کاموں کو بھی صرف مزہ لینے کے لئے کررہے ہوتے ہیں ، مثلاً دوستوں کے جُھرمٹ میں گپ شپ کے نام پر فضول اور بےکار گفتگو کرنا ، فضول قسم کے ڈائجسٹ اور کہانیاں پڑھنا ، غیرضروری طویل فون کالز کرنا ، بلامقصد موبائل یا نیٹ پر مصروف رہنا ، خوامخوہ اپنی ویڈیوز اور سیلفیاں بناتے رہنا ، کھڑکی میں کھڑے ہو کر گلی میں بے کار جھانکتے رہنا ، بلاضرورت تیزرفتاری سے ڈرائیونگ کرنا ، صحیح مقصد کے بغیر شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر خود کو دیکھتے رہنا اور خود اپنے آپ پر فدا ہوتے رہنا ، وغیرہ۔ ایسے لوگ اپنا وقت فضول میں ضائع کرکے نفع میں نقصان کا شکار ہورہے ہوتے ہیں کیونکہ کئی اہم کام ہونے سے رہ جاتے ہیں ، اس رویّے کو بھی فوری طور پر تبدیل کرنے کی حاجت ہے۔

چوتھی اور آخری بات : بہت سے اہم کام بعض اوقات صرف اس لئے ہونے سے رہ جاتے ہیں کہ کرنے والے کو مزہ نہیں آرہا ہوتا جیسے اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرنا ، مذہبی بیانات سننا ، اسلامک ویڈیوز اور ویب سائٹس دیکھنا ، فقہی وشرعی مسائل کو یاد کرنا وغیرہ ۔ ایسوں کو میرا مشورہ ہے کہ محض مزے کو پیشِ نظر رکھنے کے بجائے کام کی اہمیت کو دیکھئے ، آپ خود بھی اس تجربے سے گزرے ہوں گے کہ انجکشن لگوانے یا زخم پر ٹانکے لگوانے میں مزہ نہیں آتا بلکہ کچھ نہ کچھ تکلیف ہوتی ہے لیکن لگوانے والا اس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے تکلیف برداشت کرلیتا ہے اور مزہ آنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ اسی طرح کاروبار یا نوکری کرنے والے پر بھی ایسا وقت آتا ہے کہ اسے کام میں مزہ نہیں آتا لیکن وہ کام کے اہم ہونے کو دیکھتا ہے نہ کہ مزے کو !

معزز طلبۂ کرام! اب رہا آپ کے سوال کا جواب! تو وہ یہ ہے کہ اگر آپ کا کسی کتاب کا مطالعہ کرنے میں دل نہ لگے تو پریشان نہ ہوں بلکہ اس وقت دوسری کتاب پڑھنا شروع کردیجئے اور پہلی کتاب بعد میں کسی وقت پڑھ لیجئے ، یوں امام اعظم کے بڑے عظیم شاگرد امام محمد  رحمۃُ اللہ علیھما  کی اس ادا پر عمل کیجئے کہ جب آپ کسی ایک فن کی کتاب کے مطالعہ سے تھک جاتے تو دوسرے فن کی کتاب پڑھنا شروع کردیتے لیکن مطالعہ جاری رکھتے۔

آخری بات ! اگر آپ کو اپنے شوق کے مطابق کام نہ ملے تو اس کام میں اپنا شوق پیدا کرلیجئے جوآپ کو کرنے کےلئے دیا گیا ہو ۔ اللہ کریم آپ کے علم وعمل میں برکتیں عطا کرے ، اٰمین۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* استاذ المدرّسین ، مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی

 


Share