ہماری کمزوریاں

بڑھاپے کی پریشانیاں

* مولاناابورجب محمد آصف عطاری مدنی

ماہنامہ مارچ2021

ایک بوڑھے آدمی نے ڈاکٹر سے کہا کہ میری نگاہ کمزور ہوگئی ہے ، ڈاکٹر نے کہا : بڑھاپے کی وجہ سے ، وہ بولا : اونچا سننے لگا ہوں (یعنی بہرا پن آ گیا ہے) ، جواب ملا : بڑھاپے کی وجہ سے ، بولا : کمر جُھک گئی ہے ، کہا : بڑھاپے کی وجہ سے ، بوڑھا تنگ آکر بولا : جاہِل آدمی! تجھے بڑھاپے کے سوا کچھ نہیں آتا! جواب ملا : یہ بے موقع غصّہ بھی بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔ ([i])

انسان پیدائش سے لے کر موت تک کا سفر تین مراحل میں طے کرتا ہے ، بچپن ، جوانی اور بڑھاپا۔ بخاری شریف کی شرح فتحُ الباری میں ہے : بچپن کے ماہ و سال گزارنے کے بعد انسان بالغ([ii]) ہونے پر جوانی کے دور میں داخل ہوجاتا ہے اور 30 سال کی عمر تک جوان رہتا ہے ، اس کے بعد جوانی ڈھلنا شروع ہوتی ہے اور40 سال کی عمر میں زندگی کے آخری مرحلے بڑھاپے کی شروعات ہوجاتی ہے۔ ([iii])

ڈھل جائے گی یہ جوانی جس پہ تجھ کو ناز ہے

تو بجا لے چاہے کتنا چار دن کا ساز ہے

بڑھاپے کی پریشانیاں : بڑھاپا آتا ہے تو موت تک ساتھ رہتا ہے۔ جیسے جیسے بڑھاپا بڑھتا ہے ، بلڈ پریشرہائی یا لو ہونے ، شوگر ، سانس پھولنے ، ہاضمہ اور حافظہ کمزور ، جسم کا درد ، دیکھنے سُننے سمجھنے میں کمزوری جیسے مسائل بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں ، کہا جاتا ہے : “ یَک بُڑھاپا و صَد عیب “ یعنی ایک بڑھاپے میں انسان کے اندر سو خامیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ایک مرتبہ لوگوں نے عرض کیا کہ یارسولَ اللہ! وہ  کون سی بیماری ہے جس کی کوئی دوا نہیں؟آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشادفرمایا : وہ “ بڑھاپا “ ہے۔ ([iv])

بڑھاپے کو بیماری اس لئے فرمایا گیا کہ بڑھاپے کے بعد موت ہے جیسے بیماری کے بعد موت ہوتی ہے ، نیز بڑھاپے میں بہت بیماریاں دبالیتی ہیں۔ ([v])

تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلایا                                                            جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا

بڑھاپے نے پھر آ کے کیا کیا ستایا                                                                                                اجل تیرا کردے گی اک دن صفایا

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے                                                                  یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

بڑھاپے کا فائدہ : انسان کا بڑھاپا آزمائشوں سے بھرپور ضرور ہوتا ہے لیکن مؤمن کابڑھاپا اسےآخرت میں فائدہ بھی دے گا ، چنانچہ نبیِّ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : “ جو شخص اسلام میں بوڑھا ہوا ، یہ بڑھاپا اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔ “ ([vi])

بوڑھوں سے ہمدردی کیجئے : اولاد اور گھر کے دیگر افراد کو چاہئے کہ بوڑھوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے ان سے تعاون کریں ، ان کے آرام ، کھانے پینے ، دوائیوں اور دیگر ضروریات و سہولیات کا زیادہ خیال رکھیں ، اپنا یہ بھی ذہن بنائیں کہ یہ بوڑھے بھی کل جوان تھے اور زندہ رہے تو کل ہم بھی بوڑھے ہوں گے۔ اگرچہ معاشرے میں ایسے سعادت مندوں کی کمی نہیں جو اپنی اولاد سے بڑھ کر بوڑھے والدین کا خیال رکھتے ہیں لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر گھروں میں بوڑھوں کو بُری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے ، ان کی بات کو اہمیت نہیں دی جاتی ، ان کی بیماری کو سیریس نہیں لیا جاتا۔ ایسی صورتِ حال میں بوڑھے افراد کو چاہئے کہ ایسا لائف اسٹائل اپنائیں جس سے وہ دوسروں کے دلوں میں جگہ بناسکیں تاکہ  پریشانیوں اور احساسِ تنہائی سے بچ سکیں۔ اس حوالے سے21 ٹپس پیشِ خدمت ہیں ، جن پر اپنے اپنے حالات اور موقع محل کے مطابق عمل بہت مفید ثابت ہوگا ، اِن شآءَ اللہ۔

بوڑھوں کے لئے21ٹِپس :

بوڑھے شخص کو چاہئے کہ

(1)بدن ، لباس ، دانتوں کی صفائی کا خیال رکھے تاکہ لوگ اس کے پاس بیٹھنے سے نہ کترائیں

(2)بڑھاپے میں بے جاسہولیات کا مطالبہ نہ کرے کہ مجھے ایسا بستر ، ایسا اے سی ، ایسا ٹی وی لا کر دو ، فلاں کمرے میں رہوں گا۔ اس کے لئے خود کو جوانی میں ہی سہولتوں کے بغیر رہنے کا بھی عادی بنائے

(3)گھر والوں کے درمیان اس وقت بیٹھے جب تک وہ دلچسپی سے بیٹھیں اگر وہ دائیں بائیں ہونے لگیں تو سمجھ جائے اور اپنے کمرے وغیرہ کا رُخ کرے

(4)بات بات پر تنقید سے گُریز کرے

(5)کچن وغیرہ کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے کہ آج یہ پکاؤ ، مِرچ کم ڈالو ، وغیرہ وغیرہ ، اپنے لئے بھی حکمتِ عملی سے ترکیب بنائے کہ میرے لئے سالن نکال کر مرچ بھلے تیز کرلیا کرو  

(6)اپنے پوتوں پوتیوں سے دوستی کرلے ، ان کو جھاڑتا رہے گا تو وہ بھی بِدکیں گے ، پیار کرے گا تو ان کے والدین کو بھی اچھا لگے گا

(7) فلمیں ڈرامےدیکھنے ، گانے سننے ، بدنگاہی کرنے اور فحش گفتگو کی عادت گناہوں میں اضافہ کرتی اور لوگوں کی نظروں سے بھی گرادیتی ہے ، ان گناہوں سے بالخصوص بچے

(8)بہو بیٹا باہر جانے لگیں تو ساتھ نہ چپِکا رہے کہ میں بھی جاؤں گا ، وہ نہ لے جائیں تو شکایت بھی نہ کرے

(9)اپنی بیماریاں حتی الامکان چُھپائے ، شکوے سے بچے ، اولاد کو اچھے انداز میں علاج کا کہنے میں حرج نہیں

(10)اپنی زوجہ سے ایسا حُسنِ سلوک رکھے کہ وہ بڑھاپے میں اس کی خوش دلی سے خدمت کرے ، نہ کہ بدلہ لینے پر اُتر آئے

(11)اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی جھوٹی سچی شکایتیں دوسروں کے سامنے نہ کرے ، اس سے اولاد بدظن ہوجاتی ہے کہ ہم اتنا خیال رکھتے ہیں پھر بھی یہ ہماری برائیاں ہی کرتے ہیں

(12)گھر میں ہونے والی لڑائیوں میں فریق نہ بنے ، غیر جانبدار رہے ، اس کا وقار بڑھے گا

(13)بڑھاپے میں جوانی والی اچھل کود زیب نہیں دیتی ، چلنے پھرنے ، اٹھنے بیٹھنے میں اپنے وقار کا خیال رکھے

(14)اس حقیقت کو مانے کہ اب میں بوڑھا ہوچکا ہوں ، لٹکی ہوئی کھال ، لڑکھڑاتی ہوئی چال اور جھکی ہوئی کمر کے ساتھ “ ابھی تو میں جوان ہوں “ کے نعرے نہ لگائے

(15)زبان کو کنٹرول کرلے ، اللہ کی رحمت سے معاملات دُرست ہوجائیں گے

(16)اولاد واقعی گھاس نہیں ڈالتی تو اسباب پر غور کرے ، خود کو تھوڑا بہت تبدیل کرے ، ان کے رویے میں بھی تبدیلی آجائے گی

(17)گلی محلے میں جھگڑے نہ پالے ، گھر والے تنگ پڑجائیں گے پھر ان کے ردِّ عمل سے یہ بوڑھا تنگ پڑ جائے گا

(18)گھر میں آنے والے ملاقاتیوں کی تعداد محدود رکھےاور انہیں بھی گھنٹوں لے کر نہ بیٹھا رہے

(19)تلاوت ، نماز ، ذِکْر و اَذکار کا معمول رکھے ، دل کو سکون ملے گا

(20)گھر کے راز باہر کے لوگوں کے سامنے نہ کھولے

(21)ایک کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اس کے سامنے دوسرے کی غیبتیں نہ کرے کہ یہ گناہ کا کام ہے۔

 اللہ کریم آپ کا بڑھاپا آسان فرمائے ، اٰمین۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* اسلامک اسکالر ، رکنِ مجلس اسلامک ریسرچ سنیٹر المدینۃ العلمیہ ، کراچی



([i])مرقات ، 8 / 307 ، تحت الحدیث : 4532

([ii])ہجری سن کےاعتبارسےلڑکا 12 سے 15 سال جبکہ لڑکی 9 سے 15 سال کی عمر میں علامت ظاہر ہونے پر بالغ ہوجاتی ہے۔ مزید تفصیل کے لئے کتاب “ پردے کے بارے میں سوال جواب “ صفحہ71اور72 پڑھئے۔

([iii])فتح الباری ، 10 / 93 ، تحت الحدیث : 5065

([iv])ترمذی ، 4 / 4 ، حدیث : 2045

([v])مراٰۃ المناجیح ، 6 / 224

([vi])ترمذی ، 3 / 237 ، حدیث : 1640۔

Share

Articles

Comments


Security Code